حکومت اور تاجروں کے درمیان شناختی کارڈ کی شرط تنازعہ طول پکڑنے لگا

گجرات (نمائندہ خصوصی)حکومت اور تاجروں کے درمیان شناختی کارڈ کی شرط پر ابھی تک تنازعہ چل رہا ہے جس کے باعث تجارتی اور کاروباری حلقوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ چند ماہ قبل ایف پی آر اور تاجروں کے مابین ہونے والے مذاکرات میں تین ماہ کیلئے شناختی کارڈ کی شرط کو معطل کیا گیا تھا۔ تاجروں کا خیال تھا کہ تین ماہ گذرنے کے بعد معاملہ خودبخود ختم ہو جائے گا مگر حکومت نے تین ماہ بعد دوبارہ پچاس ہزارروپے کی خریداری پرشناختی کارڈکی کاپی لازمی قرار دے دی۔تاجروں نے اس اقدام کے خلاف26 فروری کوہڑتال کی کال دے دی ہے۔ پہلے مرحلے پر یہ ہڑتال بڑے شہروں میں جزوی طور پر ہو گی۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ دوسرے ممالک میں تاجر برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جاتی ہیں تاکہ وہ ملک کو معاشی طور پر خوشحال کر سکیں مگر پاکستان میں پہلے ہی توجروں پر کئی طرح کے ٹیکس عائد کئے جا چکے ہیں، اب ان سے یہ مضحکہ خیز مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پچاس ہزار کی خریداری کرنے والوں سے اس کا شناختی کارڈطلب کریں، تاجروں نے اس شرط کو شہریوں کے بنیا دی حقوق پر ڈاکہ کے مترادف قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں