کولون میں اذان پر احتجاج (تحریر : افتخار احمد .جرمنی)

گزشتہ ہفتے کولون کی شہری حکومت نے شہر کی بڑی پینتیس جامعہ مساجد کو لاؤڈ اسپیکر پر نمازِ جمعہ کی ازان دینے کی اجازت دی تو مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کولون کی سب سے بڑی ترکی مسجد میں جب لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی آواز گونجی تو عین اس وقت چند افراد جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ اسلام کو چھوڑ چکے ہیں بطور احتجاج سامنے آئے ان میں شامل ایک ایرانی خاتون کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ ایک پرسکون شہر میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اس سے لوگوں کا سکون خراب ہوگا جبکہ مسلمانوں کی مزید مانگیں بھی سامنے آئیں گی اس دوران ایک جرنسلٹ نے مسجد کے پاس دو بڑے چرچ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ ان کی گھنٹیوں کے شور کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے ؟ خاتون نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گھنٹیاں محض ” ٹیون” ہے جبکہ اذان بہت کچھ کہہ بھی رہی ہوتی ہے ۔ سعودیہ سے بھاگی ہوئی خاتون اس بات پر نالاں تھی کہ جو آواز اسے ساری زندگی ناگوار محسوس ہوتی رہی اتنی دور آ کر اسے پھر سے سننے کو ملی ۔یاد رہے کہ اس مسجد کی اجازت دلوانے میں پاس کے دونوں چرچوں کی انتظامیہ نے مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا بعد از احتجاج کرنے والی خواتین نے پولیس کو رپورٹ درج کرائی کہ چند افراد نے انہیں برے نتائج کی دھمکیاں دی ہیں ترک احباب خصوصاً نوجوانوں نے اسی شام لاتعداد گاڑیوں کو ہارن بجاتے ہوئے سڑکوں پر دوڑا کر خوشی کا اظہار کیا کہ آج ان کا لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا۔ ترکی کی یہ جامعہ مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے نئی تعمیر سے قبل بھی یہ اسی جگہ موجود تھی جب اسے پچیس ملین یورو کی لاگت سے پچپن میٹر اونچے میناروں کے ساتھ بنایا جانے لگا تو ایک طویل عرصہ تک آئے روز اس کی مخالفت میں احتجاج ہوتے رہے آج الحمدللہ کولون شہر کے سرکاری لوگو میں اس مسجد کی تصویر بھی موجود ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں