کورونا کی ہلاکت خیزیاں؛ 24 گھنٹوں میں 66 افراد جاں بحق

اسلام آباد(جے ایم ڈی) ملک بھر میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں فعال کیسز کی تعداد 49 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 66 افراد کورونا کے باعث جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 40 ہزار 969 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کوویڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 55 لاکھ 49 ہزار 779 ہوگئی۔این سی اوسی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 2 ہزار 458 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد ملک بھرمیں مجموعی کیسز کی تعداد 4 لاکھ 482 ہوگئی۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 350، پنجاب میں ایک لاکھ19 ہزار 578، خیبرپختونخوا 47 ہزار 370، اسلام آباد میں 30 ہزار 406، بلوچستان میں 17 ہزار 187، آزاد کشمیر 6 ہزار 933 اورگلگت بلتستان میں 4 ہزار 658 تعداد ہوگئی۔این سی او سی کے مطابق فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 49 ہزار 105 ہوگئی جن میں سے 2 ہزار 165 مریضوں کی تعداد تشویشناک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک ہزار 863 افراد نے کورونا کو شکست دے دی ہے جس کے بعد کورونا وائرس میں مبتلا 3 لاکھ 43 ہزار 268 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 66 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 8 ہزار 091 ہوگئی۔این سی اوسی کے مطابق ملک بھرمیں کورونا کے مثبت کیسزکی شرح 6 فیصد ہے۔ میرپورآزاد کشمیرمیں سب سے زیادہ جب کہ پشاوراورحیدرآباد کورونا مثبت شرح کے لحاظ سے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں