کلین اینڈ گرین یا فوٹو سیشن (تحریر:مشتاق چوہدری)

گجرات(محمدمشتا ق چوہدری)آجکل ضلعی انتظامیہ نے کلین اینڈگرین گجرات کا ایک پروگرام شروع کررکھا ہے اس پروگرام کے نام سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے 2حصے ہیں کلین اور گرین سب سے پہلے کلین گجرات کا جائزلیتے ہیں پہلا حصہ گجرات شہر میں عملی طور پر یہ فوٹوسیشن سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ گجرات کا سیوریج سسٹم برباد ہوچکا ہے گجرات کا سیوریج 80فیصد تک بند ہے وجہ گجرات کارپوریشن نے گزشتہ کئی سالوں سے اس کی صفائی نہیں کروائی گجرات کا سب سے مین نالہ جو گجرات تحصیل آفس سے شروع ہوکر گاؤں موہلہ کے قریب جاکر دریائے چناب میں گرتا ہے یہ نالہ بھی مکمل طور پر بند ہوچکا ہے وجہ کارپوریشن نے اس کی بھی صفائی نہیں کروائی کبھی کبھی کارپوریشن فوٹو شوٹ کے لیے چند ٹرالیاں گندگی نکالی جاتیں ہیں سابقہ حکومت میں اس نالہ کو جناح روڑ سے لے کر جی ٹی روڈ تک کورکردیا گیا جوخلاف قانون تھا اس پر ظلم یہ کیا گیا ہے کہ اس میں صفائی کے پوائنٹ بھی نہیں رکھے گئے تھے اور موجودہ انتظامیہ نے جگہ جگہ سے بغیر منصوبہ بندی اس کو کورکیا ہے ظلم یہ ہے کہ گجرات کے پہلے ہی چھوٹے بڑے نالے بندکردیئے گئے ہیں یہ واحد اوپن ڈرین رہ گئی تھی جس میں گجرات کا 70 فیصد پانی دریائے چناب میں جاتاہے اور عملی طور پر یہ اوپن ڈرین 80فیصد غیر قانونی طورپر کورکردی گئی ہے پرانا لاری اڈا‘جی ایس چوک سے یہ مکمل بند ہوچکا ہے پرانے صوفی ہوٹل سے لے کر رامتلائی چوک تک اس میں ٹنوں کے حساب سے کیچڑہے جس پر ضلعی انتظامیہ کی کوئی توجہ نہیں ہے کلین گجرات کی یہ حالت ہے کہ گجرات کے 5 بڑے مشہور چوک انتہائی بدصورت ہوگئے ہیں وجہ اس سارے چوکوں پر ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے گجرات کے یہ مشہور چوک جی ٹی ایس چوک‘جیل چوک‘کچہری چوک‘رامتلائی چوک‘نواب چوک‘شاہدولہ چوک‘پاکستان چوک‘اور دیگر میں ہر طرف ناجائز تجاوزات ہیں ضلعی انتظامیہ ناجائز تجاوزات مافیا کے سامنے بے بس ہے آج تک کسی انتظامی آفیسر نے ناجائز تجاوزات پر توجہ نہیں دی کیونکہ اس مافیا کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے گجرات کی بدصورتی میں ٹریفک کا بے ہنگم ہجوم بھی ہے کسی سکول سے بچے کو لے جانا ہو یا لانا ہو تو تین کلومیٹر کا فاصلہ دوگھنٹوں میں طے ہوتا ہے گجرات کا کوئی ایسا چوک ایسا نہیں ہے جہاں ٹریفک سگنل کی پابندی کی جاتی ہو آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے اب آجاتے ہیں گرین گجرات پر کوئی نئے پودے اور درخت نہیں لگائے جارہے صرف پرانے درختوں کو رنگ روغن کرکے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل کیا جارہاہے کم ا زکم ضلعی انتظامیہ کو گجرات کے بڑے چوکوں پر پھول دار پودے لگانے چاہیں لیکن انتظامیہ فوٹوشوٹ میں مصروف ہے حالانکہ ان کو نئے پھول دار پودے اور درخت لگانے چاہیں گجرات کے نالوں اور سوریج کو مکمل صفائی کروائی جائے تو گجرات صاف ہوگا صرف ایک نام کلین اور گرین کہہ دینے سے گجرات کا یہ پروگرام عوام کے ساتھ مذاق ہے گجرات کے منتخب عوامی نمائندوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک گجرات میں نکاسی آب کا نظام درست نہیں ہوتا گجرات میں کلین اور گرین گجرات جیسے منصوبے ٹوپی ڈرامہ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں شہری سیٹزن پورٹل پر بھی شکایات کریں اپنے اپنے علاقہ کی گندگی کی تصاویر وہاں روانہ کریں ابھی تک تو کارپوریشن انتظامیہ سیٹزن پورٹل کوایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے لیکن عوام کا فرض ہے پورٹل پر اپنی شکایات درج کرواتے رہیں اور اس کی انتظامیہ کو بے نقاب کریں اورساتھ ہی میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ کو بھی حکومت کے سامنے بے نقاب کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں