کراچی میں چینی باشندے کا قتل، نئی سندھی علیحدگی پسند تنظیم نے ذمہ داری قبول کرلی

کراچی کے علاقے صدر میں بدھ کو چینی نژاد پاکستانی کے قتل کی ذمہ داری ایک نئی سندھی علیحدگی پسند تنظیم نے قبول کرلی۔
سندھودیش پیپلز آرمی نامی نئی سندھی علیحدگی پسند تنظیم نے سوشل میڈیا پر صدر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ٹرانس نیشنل ٹیررسٹ انٹیلی جنس گروپ (ٹی ٹی آئی جی) کے سربراہ راجا عمر خطاب نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کی مدد سے کیا گیا۔
عمر خطاب کا کہنا ہے کہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم سندھودیش پیپلز آرمی ایک نئی سندھی علیحدگی پسند تنظیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کا دعوے کو چیک کیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ دعویٰ درست ہے۔
سی ٹی ڈی انچارج نے مزید کہا کہ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ جب بھی نئی دہشت گرد تنظیم کا اعلان کیا جاتا ہے تو صرف تنظیم کا نام تبدیل ہوتا لیکن عسکریت پسند وہی ہوتے ہیں۔
دہشت گرد تنظیم کو نیا نام دینے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نیا نام دیا جاتا ہے جب پرانی تنظیم کو حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیدیا جاتا ہے۔
چینی نژاد پاکستانی آسان ہدف تھا
راجا عمر خطاب نے مزید کہا کہ چینی نژاد پاکستانی دہشت گردوں کا آسان تھا، جامعہ کراچی حملے کے بعد حکومت نے چینی باشندوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا تھا، البتہ آج حملے کا نشانہ بننے والے دوہری شہریت کے حامل تھے، وہ دیکھنے میں چینی لگتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے کلینک کے اندر کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی، جس میں حملہ آور اس وقت تک ریسیپشن پر بیٹھ کر انتظار کرتا رہا جب تک تینوں چینی باشندے ایک جگہ جمع نہیں ہوگئے، اس کے بعد ملزم نے فائرنگ کردی۔
سی ٹی ڈی انچارج کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے مکمل ریکی کے بعد کارروائی کو انجام دیا، وہ جانتے تھے کہ کلینک میں تین چینی نژاد پاکستانی کام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور نے صرف ان لوگوں کو نشانہ بنایا جو دیکھنے میں چینی لگتے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں