پاکستان اناڑیوں اور کنفیوزڈحکمرانوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے: حمزہ شہباز

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ حکومت عالمی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کی نمائندگی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی، مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کی صحیح نمائندگی کرسکتا ہے،نئے پاکستان والوں کا جلد یوم حساب آنے والا ہے،حکومت سے آٹا، چینی اور پیٹرول کے بارے پوچھیں تو کہتے ہیں انکوائری ہو گی، نیک و کاروں نے آٹا چینی میں ملوث لوگوں کو راتوں رات ملک سے باہر بجھوا دیا، دو سالوں میں ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔ معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔ آوئے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،پاکستان اناڑیوں اور کنفیوزڈحکمرانوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے جس کی سزا عوام کاٹ رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز نیب پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ حکومت کھوکھلی ہوچکی ہے کشمیر کا مقدمہ کیا لڑے گی۔بھارتی فوج کے ذریعے کشمیری عوام پر ظلم و بربریت کیا جارہا ہے جس کا حساب بھارت کو دینا ہو گا۔ کشمیریوں پر ظلم و بربریت سے دل دکھتا ہے دعا گو ہیں اللہ تعالی کشمیری عوام کو اس عذاب سے جلد نجات دے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سات لاکھ فوجی تعینات کیے گے ہیں۔کشمیر کے عوام کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں ہے۔عالمی برادری نے کشمیر اور فلسطنیوں کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔ہمیں متحد ہو کر کشمیر کی آزادی کیلئے جہدوجہد کرنی ہوگی۔ہم او آئی سی اسٹیٹ کو لے کر چلیں اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا یونیٹیڈ نیشن کا بائیکاٹ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں وثوق سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب تاریخ اور پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کی کہانی لکھی جائے گی تو اس میں نیب اور اس کا عمران خان نیازی کیساتھ گٹھ جوڑ سرفہرست ہو گا۔ میں اپنے مقدمے یا نیب کی گرفتاری کی وجہ سے فکرمند نہیں بلکہ مجھے عام ریڑھی والے کی فکر ہے جس کی بچی بھوک سے تڑپ رہی ہے، مجھے غریب آدمی کی بے بسی پر رونا آتا ہے،انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکمرانوں نے قوم کے سینے پر مہنگائی کے جو زخم لگائے ہیں، تمہیں اس کا حساب دینا ہو گا، ہم گھبرانے والے نہیں،لیکن یہ احتساب نہیں انتقام اور تماشا کیاجارہاہے احتساب کے حق میں ہیں لیکن احتساب کے نام پر انتقام برداشت نہیں۔انہوں نے کہا کہ گندم چینی میں خود کفیل ملک میں دونوں چیزیں مہنگی ہونے کے باوجود دستیاب نہیں یہ ہے نالائق حکمرانوں کی گڈ گورنس جن کی ایک چپڑاسی بات نہیں سنتا،آٹا چینی پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے سے لوگ پریشان ہیں اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، مجھے تو دور دور تک کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی، ملک معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں تو قومیں ڈوب جاتی ہیں، حکمرانوں کی کشتی ہچکولاے کھا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں