نئی ایل سی پالیسی کے باعث ملک میں دواؤں کی شدید قلت کا خطرہ

ایل سی کے حوالے سے نئی پالیسی کے باعث ملک میں دواؤں کے خام مال کا ذخیرہ صرف دوماہ کا رہ گیا ہے۔ فارما انڈسٹری نے حکام کو آگاہ کردیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرر ایسوسی ایشن نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
صدر پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرر ایسوسی ایشن ارشد محمود کا کہنا ہے کہ دو ماہ کے بعد اچانک دوائیاں شارٹ ہونا شروع ہو جائیں گی۔
ارشد محمود نے کہا کہ وزیراعظم اور سرکاری اداروں کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسٹیٹ بینک نے جو ایل سی نہ کھولنے کے حوالے سے زبانی احکامات دیے ہیں اس کے باعث دو ماہ کے بعد دوائیں دستیاب نہیں رہیں گی۔
دواؤں کی بڑھتی قیمتوں اور ممکنہ عدم دستیابی کا معاملہ سماء نے ڈریپ کے سی ای او کے سامنے رکھا تو جواب دینے کے بجائے صرف مسکرا کرچل دیے۔
دوا ساز کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ انہیں پہلے ہی دواؤں کی کم قیمتوں کے باعث مسائل اور بحران کا سامنا ہے اگر نیا خام مال درآمد کرنے میں سہولیات نہ دی گئیں تو نتیجہ دواؤں کی قلت کی صورت میں ہی نکلے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں