ملکہ ایلزیبتھ کی میت کو سپردخاک کردیا گیا

برطانیہ پر 70 سال تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الیزبتھ دوئم کو سپردخاک کردیا گیا۔
ملکہ الیزبتھ کی آخری رسومات پیر کو لندن میں ادا کی گئیں جس میں عالمی رہنماؤں سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
وزیراعظم پاکستان شہبازشریف، امریکی صدر جو بائیڈن، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سمیت کئی عالمی رہنما بھی آخری رسومات میں شریک ہوئے۔
جلوس جنازہ ویسٹ منسٹر ایبے سے روانہ ہوکر انکی آخری آرام گاہ سینٹ جارج چیپل کی طرف رواں دواں ہو اتو راستے میں لاکھوں لوگ سڑک کے دونوں اطراف قطار بنائے ملکہ کو الوداع کہنے کیلئے موجود تھے۔
ملکہ کو کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کردیا گیا جس کے ساتھ ہی ملکہ راج کا خاتمہ ہوگیا
اس سے قبل ویسٹ منسٹرایبے میں دعائیہ تقریب میں شاہی خاندان کے افراد نے شرکت کی، آخری رسومات کی ادائیگی کی تقریب بڑی اسکرینیں لگا کربراہ راست نشر کی گئی۔
پیر کو رائل نیوی کی سرکاری گن کیرج میں تابوت ویسٹ منسٹر ہال سے ویسٹ منسٹرایبے منتقل کیا گیا، اس موقع نئے بادشاہ، شہزادہ ولیم ،ہیری اورشاہی خاندان کے سینئرارکان جلوس میں پیدل چلے۔
ویسٹ منسٹرایبے میں دعائیہ سروس کا اختتام بگل بجا کر کیا گیا، سارے برطانیہ میں دومنٹ کیلئے زندگی تھم گئی۔
جس کے بعد تابوت جلوس کی شکل میں لندن ہائیڈ پارک کارنرمیں واقع ولنگٹن آرچ لےجایا گیا۔ ہرایک منٹ بعد لندن کی بگ بین کی گھنٹی بجائی گئی، ہائیڈ پارک سے ہرمنٹ بعد توپوں کی سلامی دی گئی، سینٹ جارج چیپل میں ملکہ کا شاہی تاج آخری بار ان سے جدا کردیا گیا۔
ملکہ برطانیہ کے تابوت کے آخری دیدار کیلئےلندن کی سڑکوں پر لاکھوں افراد کی طویل قطاریں لگی رہیں۔ ویسٹ منسٹرایبے کے اطراف ٹرین سروس اور سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔
ملکہ کے جنازے کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل ہے اور آخری رسومات کو سرکاری حیثیت دی گئی ہے، اس اہم موقع پر فوجی دستوں نے پولیس کے ساتھ سیکورٹی سنبھال رکھی ہے۔
اس سے قبل پیر کی صبح 6 بجےویسٹ منسٹر ہال میں ملکہ ایلزیبتھ کے تابوت کے دیدار کا وقت ختم ہوا اورعوام کے لیے ہال کے دروازے بند کردئیے گئے تھے۔
غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق ویسٹ منسٹر ہال میں موجود ملکہ ایلزبیتھ کے تابوت کو دیکھنے کے لیے 5 روز کے دوران لاکھوں افراد نے یہاں کا رخ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں