ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات کب اور کیسے ادا ہوں گی؟

ملکہ الزبتھ دوم کی وفات سے برطانوی تاریخ کے طویل ترین دورِ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ان کی موت پرسکون انداز میں بیلمورل کاسل سکاٹ لینڈ میں اپنے اہلخانہ کے درمیان ہوئی۔
اب جبکہ ملکہ کی وفات پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، ایسے میں دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان کے آخری دیدار اور تدفین کے متعلق کیا کچھ متوقع ہے۔
ملکہ کا آخری دیدار
سکاٹ لینڈ سے لندن واپسی کے بعد ملکہ کی میت کو آخری رسومات سے قبل ویسٹ منسٹر ہال میں تقریباً چار روز کے لیے آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا اور عوام کو ان کا دیدار کرنے کی اجازت ہو گی۔
یہ عظیم الشان ہال پیلس آف ویسٹ منسٹر کا قدیم ترین حصہ ہے اور حکومتِ برطانیہ کا مرکز ہے۔
Image of the Queen Mother lying in stat
سنہ 2002 میں شاہی خاندان کی آخری شخصیت جن کی میت کو دیدار کے لیے اس ہال میں رکھا گیا تھا وہ ملکہ الزبتھ کی والدہ مادر ملکہ تھیں۔ اُن کا آخری دیدار کرنے کے لیے دو لاکھ سے زیادہ افراد قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔
ملکہ کی میت کو 11ویں صدی میں تعمیر کیے جانے والے ہال کی قرون وسطیٰ کی لکڑی کی چھت کے نیچے ایک بلند پلیٹ فارم پر رکھا جائے گا جسے ’کیٹفالک‘ کہا جاتا ہے۔ پلیٹ فارم کے ہر کونے کی حفاظت ان یونٹس کے سپاہی کریں گے جو شاہی خاندان کی خدمت کرتے ہیں۔
دیدار کے بعد اُن کی میت کو بکنگھم پیلس سے ایک جلوس کی صورت میں ویسٹ منسٹر ہال لایا جائے گا۔ یہ جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھے گا اور میت کے ہمراہ فوجی پریڈ اور شاہی خاندان کے افراد بھی ہوں گے۔
لوگ اس جلوس کو سڑکوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھ سکیں گے اور لندن کے واقع رائل پارکس میں آخری رسومات کی یہ تقریبات بڑی سکرینوں پر دکھائے جانے کا امکان ہے۔
جنازے کا روٹ
ان کے تابوت کو شاہی پرچم میں لپیٹ دیا جائے گا اور ایک بار جب ان کی میت ویسٹ منسٹر ہال میں پہنچ جائے گی تو اس پر برطانوی شاہی تاج، شاہی کرّہ اور شاہی عصا رکھی جائے گی۔
ایک بار جب ملکہ کی میت کو ویسٹ منسٹر ہال میں رکھ دیا جائے گا تو ایک چھوٹی سی دعائیہ تقریب ہو گی، اس کے بعد عوام کو ہال میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔
ملکہ کا تابوت
ملکہ کی آخری رسومات کب ہوں گی؟
شاہی اعزازات کے ساتھ ملکہ کی آخری رسومات متوقع طور پر ویسٹ منسٹر ایبی میں دو ہفتوں سے کم عرصے میں ادا کی جائیں گی، اس بارے میں حتمی تاریخ کا اعلان بکنگھم پیلس کی جانب سے کیا جائے گا۔
ویسٹ منسٹر ایبی وہ تاریخ کلیسا ہے جہاں برطانیہ کے بادشاہوں اور ملکاؤں کی تاج پوشی کی جاتی ہے۔
یہاں پر ملکہ الزبتھ دوم کی سنہ 1953 میں تاج پوشی کی گئی تھی اور سنہ 1947 میں ان کی شہزادہ فلپ کے ساتھ شادی کی تقریب بھی یہیں منعقد ہوئی تھی۔
Westminster Abbey
ایبی میں 18ویں صدی کے بعد سے کسی حکمران کی آخری رسومات ادا نہیں کی گئی ہیں تاہم ملکہ کی والدہ کی آخری رسومات وہاں سنہ 2002 میں ادا کی گئی تھیں۔
دنیا بھر سے سربراہان مملکت شاہی خاندان کے ہمراہ ملکہ کی زندگی اور خدمات کو یاد کرنے اور ان کی آخری رسومات میں شریک ہونے کے لیے پہنچیں گے۔
برطانیہ کے سینئر سیاستدان اور سابق وزرائے اعظم بھی اس موقع پر وہاں موجود ہوں گے۔
جنارے کا روٹ
دن کے آغاز پر ملکہ کے تابوت کو ویسٹ منسٹر ہال سے ویسٹ منسٹر ایبی تک رائل نیوی کی سرکاری گن کیرج میں لایا جائے گا۔
اس گن کیرج کو آخری مرتبہ سنہ 1979 میں شہزادہ فلپ کے ماموں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی آخری رسومات کے موقع پر دیکھا گیا تھا جسے رائل نیوی کے 142 ملاحوں نے کھینچا تھا۔
نئے بادشاہ سمیت شاہی خاندان کے سینیئر ارکان ممکنہ طور پر اس کے پیچھے چلیں گے۔
ملکہ کی آخری رسومات کے لیے دعا ممکنہ طور پر ڈین آف ویسٹ منسٹر ڈیوڈ ہوئل کروائیں گے جبکہ آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبی خطبہ دیں گے۔
ویسٹ منسٹر ایبی
وزیر اعظم لز ٹرس کو ممکنہ طور پر مذہبی پیغام کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔
آخری رسومات کے بعد ملکہ کا تابوت پیدل جلوس کی صورت میں ایبی سے لندن کے ہائیڈ پارک کارنر میں ویلنگٹن آرچ تک لایا جائے گا جس کے بعد اسے میت گاڑی میں ونڈزر لے جایا جائے گا۔
ملکہ کا تابوت اس دوپہر ونڈزر کاسل میں سینٹ جارج چیپل تک اپنا آخری سفر کرے گا۔
توقع کی جاتی ہے کہ بادشاہ اور شاہی خاندان کے سینئر ارکان ونڈزر کاسل کے چوراہے میں جلوس میں شامل ہوں گے جس کے بعد تابوت کو سینٹ جارج چیپل میں ایک دعائیہ تقریب کے لیے لے جایا جائے گا۔
جنازے کا جلوس
سینٹ جارج چیپل وہ گرجا گھر ہے جسے شاہی خاندان باقاعدگی سے شادیوں، نام رکھنے اور آخری رسومات کے لیے منتخب کرتا ہے۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس شہزادہ ہیری اور میگھن کی شادی ہوئی تھی اور جہاں ملکہ کے شوہر شہزادہ فلپ کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں