لاپتہ افراد کی بازیابی ریاست کی ذمہ داری ہے، رانا ثنا اللہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ریاست کے لئے یہ باعث شرمندگی ہے کہ لوگوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے بجائے انہیں لاپتہ کردیا جائے اور پھر ان کی لاشیں ملیں۔
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے 3 لاپتہ کارکنوں کی لاشیں ملنے کے بعد وزیر اعظم کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تھی، لاپتہ افراد کی بازیابی ریاست کی ذمہ داری ہے، جو ریاست ایسا نہیں کرسکتی وہ ریاست اپنے بنیادی فرض سے غافل ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا دکھ موت سے بھی زیادہ کربناک ہے، ان کے خاندان کے لیے ہر پل ایک قیامت ہے، لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اپنا دکھ اور احتجاج بڑے حوصلے کے ساتھ ریکارڈ کرایا، ہم نے یقین دلایا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
لاپتہ افراد سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ایسا عمل ہے جس سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہورہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں پورے ملک میں اس قسم کے مسائل ہیں، ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے، تشدد اور گمشدگی انسانیت کے احترام کے خلاف ہیں، جو لوگ ان چیزوں میں ملوث ہیں وہ آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا دکھ سب کا دکھ ہے، بطور ریاست یہ باعث شرمندگی ہے کہ لوگوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے بجائے انہیں لاپتہ کردیا جائے اور پھر ان کی لاشیں ملیں، حکومتوں کی اس بارے میں رٹ کس حد تک ہے اس کا سب کو علم ہے، یقین دلاتا ہوں کہ ہم تصادم کے بجائے افہام کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لاپتہ افراد کا تعلق جس صوبے سے بھی ہو ان کی بازیابی کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سوات میں دوبارہ دہشت گرد آنے کی باتیں افواہ ہیں، ایسا بالکل بھی نہیں، ہمارے سیکویرٹی ادارتے پوری طرح سے الرٹ ہیں، ہمارے ادارے دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کررہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں