شہدائے کربلا کے چہلم پر کربلا میں لاکھوں افراد کا اجتماع

حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کے چہلم پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں زائرین کربلا پہنچ گئے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق عراق اور ایران کی بارڈر کراسنگ آرگنائزیشن کے ترجمان علاء الدین القیسی کا کہنا ہے اربعین کے اجتماع میں شرکت کے لیے 20 لاکھ سے زائد غیر ملکی زائرین عراق پہنچے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام زائرین بغیر کسی پریشانی کے داخل ہو رہے ہیں اور بارڈر کراسنگ آرگنائزیشن عراق میں ان کے داخلے اور کربلا کی طرف ان کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہے۔
سیکورٹی انتظامات:
عراقی حکام نے 16-17 ستمبر کو اربعین کے پیش نظر ملک بھر میں سیکورٹی بڑھا دی ہے، اس سال کورونا کی پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے زائرین کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔
ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور اتحادی شیعہ ملیشیا کے اہلکار کربلا اور شہر کی طرف جانے والی سڑکوں پر زائرین کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
کربلا میں زیارت کے دوران گاڑیوں پر پابندی لگنے کا امکان ہے اور حکام شہر کے مضافات میں جمع ہونے والے مقامات سے لوگوں کو امام حسینؓ اور حضرت عباس علمدارؓ کے مزارات تک لے جانے کے لیے بسوں کے ایک مخصوص بیڑے کا استعمال کررہے ہیں۔
اربعین کیا ہے؟
شہدائے کربلا کا چہلم منانے کیلئے ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں زائرین عراق کا رخ کرتے ہیں، اس موقع پر لوگ طویل مسافت عام طور پر پیدل چل کر طے کرتے ہیں جسے اربعین واک کہا جاتا ہے۔
اربعین عربی گنتی میں 40 کو کہتے ہیں اور یہ کسی شخص کی موت کے 39 دن بعد اس کی یاد میں منائے جانے والے دن کو کہا جاتا ہے۔
عراق میں اربعین کا تہوار سنہ 61 ہجری میں دس محرم کو پیش آنے والے کربلا کے واقعے کے 40 دن کی تکمیل پر 20 صفر کو منایا جاتا ہے۔
اربعین واک کیلئے اکثر عراقی اپنے اپنے شہروں سے کربلا کی طرف پیدل سفر کا آغاز کرتے ہیں جبکہ ایران اور دیگر ممالک کے زائرین اپنے سفر کیلئے نجف سے کربلا کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔
اربعین کی واک میں شرکت کیلئے بیرون ملک سے آنے والے بیشتر زائرین نجف کے ہوائی اڈے پر اترتے ہیں جہاں وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے روضہ پر حاضری کے بعد کربلا کی طرف پیدل سفر کرتے ہیں، نجف سے کربلا تک کا فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔
عراقیوں کی مہمان نوازی:
راستے میں زائرین کی خدمت کیلئے جگہ جگہ سبیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں عراق کے لوگ زائرین کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔
عراقی خاندان اربعین کیلئے خصوصی طور پر زائرین کی خدمت کی تیاریاں کرتے ہیں اور پورے پورے خاندان زائرین کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔
نجف سے کربلا تک طویل مسافت کے دوران زائرین کیلئے عراقی باشندوں کی جانب سے جگہ جگہ کیمپس قائم کیے جاتے ہیں جنہیں مواکب کہا جاتا ہے جہاں زائرین کے آرام اور کھانے پینے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
زائرین کو اربعین کیلئے عراق میں کسی قسم کے خرچے کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ کھانے پینے سے لیکر انکی ضرورت کی ہر چیز بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ بچوں کے پیمپر سے لیکر ٹشو پیپر تک زائرین کو مفت دستیاب ہوتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں