شہباز شریف کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے: غضنفر گل

گجرات (نمائندہ خصوصی) نوابزادہ غضنفر علی گُل نے صدر پاکستان مُسلم لیگ ن کے مرکزی صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں مُحمد شہباز شریف کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی انتقام کی بد ترین مثال ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے جمہوریت کی بحالی کیلئے تاریخی اتحاد اور آل پارٹی کانفرنس کے متفقہ اعلامیہ سے حکومت بوکھلا گئی ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں اور انتقامی کاروائیوں پر اُتر آئی ہے۔ اور یہ گرفتاری اے پی سی کی کامیابی کا ردِ عمل ہے۔ میاں نواز شریف کا تاریخی اور دبنگ خطاب حکمران ٹولے کے گلے پڑ گیا ہے اور ہضم نہیں ہو رہا۔ ایوانِ اقتدار میں لرزا تقرری ہے۔ نقارے پہ چوٹ پڑ چُکی ہے اور حکومت آخری مرحلہ میں داخل ہو چُکی ہے۔ میاں نواز شریف کے خطاب کو عوام میں بے پناہ پذیرائی ملی ہے۔ ابھی مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی حکومتوں نے کار کردگی کی بجائے خود کو بچانے کیلئے یہ راستہ اپنایا ہے اُن کا زوال قریب تر ہو گیا اور وہ سیاست سے فارغ ہو گئیں۔ اپوزیشن کو اعلیٰ کردگی اور عوام میں مقبولیت سے ہی نیچا دکھایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت مسائل کے حل میں مکمل نا کام ہو چکی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اُن کی مشکلات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ روپیہ کی قدر تاریخ کی بد ترین سطح کو چھو رہی ہے اور مزید گِر رہی ہے۔ معیشت تباہ ہو چُکی ہے اور پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ خارجہ پالیسی بھی ناکام ہو چُکی ہے اور ہم بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہو چُکے ہیں۔ سعودی عرب بھی ہم سے دور ہو چُکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ سال ایران، ملائشیا اور تُرکی کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ حالیہ اجلاس میں صرف تُرکی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ حکومت اپنی جُملہ ناکامیوں کا غصہ سیاسی مخالفین پر نکال کے اطمینان حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا اور حکومت کو جانا پڑے گا۔ ہم میاں محمد شہباز شریف کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اور اُنکی فالفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں