حکومت کی آرڈیننس کے ذریعے منی بجٹ لانے کی تیاریاں

آئی ایم ایف کی شرطوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے منی بجٹ لانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
ملک کی معاشی حالت سدھارنے اور آئی ایم ایف پروگرام بحالی کے حکومتی جتن جاری ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے 175 ارب روپے سے زائد کا منی بجٹ اسی مہینے لانے کی ٹھان لی ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں ساری صورت حال اور اقدامات کے بارے میں بتا دیا ہے، وزیراعظم کی جانب سے آج ہی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے تجاویز کی منظوری متوقع ہے۔
حکومت کی جانب سے لایا جانے والا منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کیا جائے گا۔ مجوزہ منی بجٹ پر آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔
منی بجٹ میں فلڈ لیوی سمیت پونے دو سو ارب روپے سے زائد کے مختلف ٹیکسز عائد کئے کئے جائیں گے۔
آرڈیننس کے ذریعے درآمدی خام مال اور فرنشڈ آئٹمز پر 3 فیصد تک فلڈ لیوی عائد کی جائے گی۔ زيرو کسٹم ڈيوٹی والی درآمدی اشیاء پر 1 فیصد فلڈ لیوی کے ساتھ مقامی سطح پر بھی فلڈ لیوی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
آرڈیننس کے ذریعے درآمدی خام مال اور فرنشڈ آئٹمز پر 3 فیصد تک فلڈ لیوی عائد کی جائے گی۔ زيرو کسٹم ڈيوٹی والی درآمدی اشیاء پر 1 فیصد فلڈ لیوی کے ساتھ مقامی سطح پر بھی فلڈ لیوی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔ یکم فروری سے مجوزہ منی بجٹ پر عمل درآمد بھی شروع ہو جائے گا۔
تمام طبقوں کوبوجھ برداشت کرنا پڑےگا
دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی جلدبحالی چاہتی ہے، آئی ایم ایف کےبہت سےتحفظات دورکردیے گئے ہیں۔
عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے سخت فیصلےکرنے پڑیں گے، تمام طبقوں کو بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
وزير مملکت نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہےعام آدمی پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور صاحب ثروت لوگوں پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں