آبادی میں اضافہ اور تیسری دنیا

اقوام متحدہ کی عالمی یوم آبادی کی مناسبت سے سالانہ آبادی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی آبادی اگلے روز8ارب تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 2030 میں دنیا کی آبادی بڑھ کر ساڑھے 8ارب ہو جائے گی یعنی اگلے 8 برس میں 50 کروڑ لوگوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2050 میں کرہ ارض پر9ارب 70 کروڑ نفوس رہ رہے ہوں گے جب کہ 2100ء میں انسانوں کی تعداد 10ارب 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی آبادی کو7 ارب سے بڑھ کر8ارب ہونے میں 12برس لگے اور اس کے9ارب پہنچنے میں تقریباً 15برس لگیں گے یعنی 2037 تک دنیا کی آبادی 9ارب ہو گی، رپورٹ کے مطابق2022 میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے 2 ممالک براعظم ایشیا میں واقع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2022 میں 1426ملین آبادی کے ساتھ چین دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک جب کہ بھارت کی آبادی 1412ملین ہے، اقوام متحدہ نے پیش گوئی کی ہے کہ 2050 تک عالمی آبادی میں ہونے والی مجموعی اضافے کا نصف سے زیادہ صرف 8ممالک میں رہ رہاہوگا۔ ان میں پاکستان، بھارت، چین، کانگو، مصر، ایتھوپیا، نائجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں۔
دوسری طرف پاکستان آبادیاتی سروے 2020کے مطابق ملک میں شہریوںکی اوسط عمر میں کمی ہوئی ہے،پاکستان آبادیاتی سروے 2020 کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں ، آبادیاتی سروے 2020کے مطابق ملک میں شہریوں کی اوسط عمر65.4 سال سے کم ہوکر 65سال ہوگئی ہے، سروے کے مطابق مردوں کی اوسط عمر 64.3سے بڑھ کر 64.5سال ہوگئی ہے دوسری جانب خواتین کی اوسط عمر 66.5سے کم ہو کر 65.5پرآگئی۔
دنیا بھر کے ماہرین آبادی کے حوالے سے اپنی اپنی آراء دیتے آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی ہر سال اپنی رپورٹ شائع کرتا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر چین اور جنوبی ایشیا کی آبادی کو جمع کیا جائے تو کرہ ارض کے اس خطے میں اڑھائی ارب سے زائد انسان رہ رہے ہیں جب کہ کرہ ارض کے باقی سارے رقبے پر سوا پانچ ارب انسان موجود ہیں۔یوں دیکھا جائے تو چین اور جنوبی ایشیا آبادی کے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔
آبادی کے حوالے سے ماہرین کی رائے مختلف ضرور ہے تاہم سب ماہرین یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آبادی میں غیرمعمولی اضافہ ہے جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ترقی کا عمل سست ہے تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر آبادی کو درست طریقے سے استعمال میں لایا جائے اور نوجوان طبقے کو جدید تعلیم اور ہنرمندی سے آراستہ کیا جائے توغریب ملک بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال عوامی جمہوریہ چین ہے۔
چین آج دنیا کی اہم اقتصادی اور عسکری قوت ہے۔ چین نے صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی میںترقی یافتہ ملکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔چین اب تیسری دنیا کا ملک نہیں رہا بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہو گیا ہے۔ چین کی بنائی ہوئی اشیاء پوری دنیا میں فروخت ہو رہی ہیں اوراس میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہاہے۔چین نے غریب طبقے کی حالت بدلی ہے اوردرمیانے طبقے کا حجم بڑھایا ہے جس کی وجہ سے چین ایک اچھی مارکیٹ بھی بن گیا ہے جہاں دیگر ممالک اپنی مصنوعات فروخت بھی کررہے ہیں۔
چین نے انرجی کی پیداوار میںوقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیا ہے اورانرجی کی قیمتیں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت کم ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے چین میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے کیونکہ کی حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
انوسٹمنٹ فرینڈلی قوانین بنائے گئے ہیں اور ون ونڈو آپریشن کے تحت سرمایہ کاری کرنے والے کو آسانی فراہم کی جاتی ہے۔ توانائی اور لیبر سستی ہونے کی بناء پراور اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں چھوٹ کی وجہ سے ملٹی نیشنل کمپنیاں چین میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس طرح ان کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آتی ہے جب کہ منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔
امریکا اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقابلے میں چین کی بڑھتی ہوئی قوت کے باعث ان ممالک نے چین کی مصنوعات کو اپنے اپنے ملکوں میں آنے سے روکنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود چین کی ترقی کی شرح کم نہیں ہوئی۔ اگر بھارت کو دیکھا جائے تو بھارت میں بھی ٹیکنالوجی میں خاصی محنت کی ہے۔ بھارت میں درمیانہ طبقہ پھیلا ہے۔
بھارت کی مصنوعات بھی دنیا بھر میں فروخت ہو رہی ہیں تاہم بھارت اپنے انتہائی نچلے طبقے کی غربت میں کمی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جب کہ اس کے مقابلے میں چین کا ماڈل زیادہ کامیاب رہا ہے۔ بہرحال اگر ہم پاکستان کی طرف دیکھیں تو ہمیں ترقی معکوس کا عمل نظر آتا ہے۔ پاکستان برآمدی ملک نہیں بن سکا بلکہ دوسرے ملکوں کی منڈی میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ملک کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں، قوانین کی پیچیدگیوں اور بیوروکریسی کی مداخلت زیادہ ہونے کی بناء پر سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتا ہے۔ پاکستان کے اپنے سرمایہ کار دنیا کے دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مختلف حکومتوں نے پائیدار اور مسلسل ترقی کے ماڈل کو نہیں اپنایا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی آبادی میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوتا رہا اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پاکستان 22 کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے جب کہ ملک میں اس حساب سے انفراسٹرکچر تعمیر نہیں ہو سکا اور نہ ہی تعلیمی ادارے قائم ہو سکے ہیں۔
زرعی شعبے پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے یہ بھی زوال پذیری کا شکار ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو اناج بھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اب پاکستان کی حکومت ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دے رہی ہے اور دیگر ملکوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان اور سربیا کے مابین دو طرفہ تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان صنعت و تجارت، قابل تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے کثیر مواقع موجود ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سربیا میں پاکستان کے نامزد سفیر علی حیدر الطاف سے گفتگو کے دوران کیا۔
پاکستان کی موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ معاملات بھی موثر انداز میں ہینڈل کیے ہیں اور پاکستان اب گرے لسٹ سے نکل آیا ہے تاہم منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے حوالے سے پاکستان کومزید کام کرنے کی ضرورت ہے اوراسے بہت محتاط انداز میں چلنا ہوگا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پوری دنیا میں5اعشاریہ 8ٹریلین ڈالر کی رقم دہشت گردی، ڈرگ اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم میں استعمال کی جاتی ہے۔ منی لانڈرنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کو مل کر اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ جرائم کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے،اس کی روک تھام مشکل ضرور ہے مگر کوشش کی جاتی رہنی چاہیے۔
منی لانڈرنگ بھی پاکستان کی معیشت کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اب بھی دہشت گرد گروپ اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروہ بھی اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔
اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے پسماندہ اور غریب ملکوں کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ، ڈرگ ٹریفکنگ اور دیگر جرائم کا نیٹ ورک ہے، یہ نیٹ ورک پسماندہ اور غریب ملکوں کی سیاست پر بھی غالب آ رہا ہے جب کہ ریاستی ڈھانچے میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ اس وجہ سے ایسے گروہوں کے خلاف ریاست کریک ڈاؤن کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔
پاکستان کی حکومت نے منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے کے لیے بڑی کامیاب جدوجہد کی ہے۔ اس کا اعتراف ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان مسلسل ایسے گروہوں کے خاتمے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ گو، پاکستانی معیشت اس وقت مشکل میں ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوتی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں