امریکا پاکستان کوایف 16 طیاروں کی مرمت کے آلات فراہم کریگا

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستان کو ايف سولہ طياروں کی مرمت کيلئے سامان کی فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے۔
امريکی محکمہ خارجہ نے پینتالیس کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی ہے۔ جس کے بعد پاکستان کو ايف سولہ طياروں کی مرمت کیلئے آلات مل سکيں گے، طیاروں کے آلات اور مرمت کیلئے یہ ٹھیکہ امریکی کمپنی طیارہ ساز کمپنی لا ہیڈ مارٹن کارپويشن کو دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو متعلقہ سامان ديئے جانے کی مجاز لاک ہيڈ مارٹن کارپويشن ہوگی۔ اس معاہدے میں پاکستان کو کسی نئے قسم کے ہتھیار کی صلاحیت فراہم نہیں کی جائے گی۔ امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے یہ منظوری امریکی کانگریس کو بدھ کے روز ہی بھجوائی ہے، تاہم اس معاہدے کی حتمی منظوری امریکی کانگریس دے گی۔
جاری رپورٹ میں امریکا کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کی مرمت کے معاہدے سے علاقائی طاقت کے توازن کو فرق نہیں پڑے گا۔
اعلامیے کے مطابق امریکا کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے اس حوالے سے مطلوبہ سرٹیفیکیشن فراہم کر دی ہے جس کے بعد آج کانگریس کو اس ممکنہ فروخت کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کو برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی تھی تاکہ پاکستان ایئر فورس کے ایف 16 فلیٹ کی معاونت کی جا سکے اور اس حوالے سے مزید عوامل بھی شامل کیے جا سکیں۔
اس سے قبل جولائی 2019 میں امریکی محکمہ دفاع نے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا، اور یہ سلسلہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی جاری تھا۔
امریکی ساختہ ایف سولہ طیارے پاکستان کی فضائی جنگی صلاحیت کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ پاکستان کے پاس مجموعی طور پر 85 ایف سولہ طیارے ہیں جن میں سے 66 پرانے بلاک 15 طیارے ہیں اور 19 جدید ترین بلاک 52 ہیں۔ یہ طیارے امریکی ٹیکنیکل سیکیورٹی ٹیم کی نگرانی میں ہیں۔
اس تازہ ترین ممکنہ معاہدے کے تحت امریکی حکومت اور لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے جو انجینیرنگ، تکنیکی اور لاجسٹیکل سروسز فراہم کی جائیں گی ان کی فہرست اعلامیے میں دی گئی ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ممکنہ فروخت پاکستان کے ایف 16 فضائی بیڑے کی دیکھ بھال جاری رکھنے میں مدد کرے گی جس سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں فضا سے زمین پر مار کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں معاونت ملے گی۔
پاکستان کو ان سروسز اور آلات کو اپنی افواج میں شامل کرنے میں کوئی مشکل نہیں آئے گی اور اس ممکنہ فروخت سے خطے میں بنیادی عکسری توازن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
پاکستان کیلئے ایف 16 پروگرام کا آغاز
امریکا سے پاکستان کو ملنے والے ایف 16 طیاروں کے پروگرام کا آغاز سال 1981 میں ہوا تھا جب افغانستان میں سویت یونین نے مداخلت کی تھی۔
امریکا نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کی حامی بھرلی تھی تاکہ انہیں سویت یونین اور افغان طیاروں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ سویت یونین اور افغان طیارے ترتیب وار سرحد پار کر کے مجاہدین کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بناتے تھے۔
اس مشن کے تحت سال 1986 سے 1990 کے دوران پاکستانی ایف سولہ طیاروں نے کم از کم 10 افغان اور روسی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ٹرانسپورٹ طیارے مار گرائے تھے۔
سال 1990 میں امریکا نے 28 ایف سولہ طیارے پاکستان کو دینے سے انکار کر دیا جس کے لیے پاکستان 658 ملین ڈالر کی رقم ادا کر چکا تھا۔ اگرچہ امریکا نے آخر کار یہ رقم واپس کر دی تھی، اسلام آباد نے امریکا کو ایک قابل اعتبار اتحادی کے طور پر شک سے دیکھنا شروع کر دیا اور تحفظات پیدا ہوئے تھے۔ تاہم نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو 18 جدید ترین بلاک 52 ایف سولہ طیارے دینے پر اتفاق کیا جس کی لاگت تقریباً 1.4 ارب ڈالر تھی۔
پاکستان کو دیئے گئے ایف 16 طیاروں کے ساتھ ٹارگٹنگ پوڈز اور الیکڑانک وار فئیر پوڈز بھی شامل تھے۔ پاکستان کے 52 پرانے ماڈل کے ایف سولہ طیاروں کی اپ گریڈیشن کٹس بھی دی گئی تھیں اور یہ ساز و سامان ملنے کے بعد ایف سولہ طیارے بلاک 52 قسم کے طیاروں کے ہم پلہ ہو گئے تھے۔
سال 2016 میں پاکستان کی جانب سے امریکا سے مزید ایف 16 طیارے خریدنے کے لیے مالی امداد کی درخواست امریکی کانگریس کی جانب سے رد کر دی گئی تھی۔
اس وقت کے امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے ہم نے پاکستان کو اطلاع دے دی ہے کہ یہ طیارے خریدنے کے لیے انھیں اپنے قومی فنڈ کا استعمال کرنا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں