اس لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہیے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف کامیابی میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے شامل ہوں گے.

اسلام آباد میں پارلیمانی رہنماوَں کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ 15جنوری کو کورونا سے متعلق پہلا اجلاس کیا، کورونا وائرس سے متعلق چین سے رابطے میں رہے،چین میں پاکستانی طلبہ پھنسے ہوئے تھے، پاکستانی طلبہ کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، خوف تھا کہ پاکستانی طلبہ کے آنے سے کورونا یہاں بھی پھیل جائے گا، اس لئے چین سے کوئی کورونا مریض پاکستان نہیں آیا۔ پاکستانی زائرین ایران گئے تھے، ایران کے پاس کورونا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی، ایران نے پاکستانی زائرین تفتان سرحد بھیج دیئے، دباوَ بڑھنے کی وجہ سے زائرین کو پاکستان منتقل کیا، معاون خصوصی صحت نے تفتان بارڈر کا دورہ کیا، تفتان بارڈر پر کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 21 مریض سامنے آنے پر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاوَن کا فیصلہ کیا، دنیا بھر میں مختلف نوعیت کے لاک ڈاوَن ہورہے ہیں، میری نظر میں لاک ڈاوَن کی کئی قسمیں ہیں، لاک ڈاؤن کے معاملے پرسندھ آگے چلاگیا ہے، ہمارا خیال تھا سندھ کی طرز کا لاک ڈاوَن ابھی نہیں لگانا، لاک ڈاؤن کے اثرات کوئی نہیں دیکھ رہا، ملک میں 25 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، صوبوں میں لاک ڈاوَن سے مسائل پیدا ہوں گے، بڑے پیمانے پر بےروزگاری کا خدشہ ہے، ٹرانسپورٹ بند کرنے سے اشیا کی فراہمی میں مسائل آئیں گے، گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی ہے، کورونا کے لئے کرفیو لگانا ہے تو گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کی جنگ کوئی حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی ہے، خوف اور گھبراہٹ سے فیصلوں کے نتائج درست نہیں ہوتے، کورونا کے خلاف کامیابی میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے شامل ہوں گے، سیاسی قیادت کی رائے لینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیں گے، نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ کی بندش پر بھی غور کریں گے، پارلیمانی رہنماوَں سے رابطے میں رہیں گے اور تجاویز لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں