بدلتا كلچر اور ہماری ذمہ داریاں(از: فرزانہ کوثر۔ جرمنی)

انٹرنیٹ نے دنیا ایک بہت بڑا انقلاب برپا کیا۔ دنیا نے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا اور اُٹھا رھا ھے اسی کی بدولت پوری دنیا ایک گاؤں کی مانند ھو گئی جہاں کوئی بھی ایک دوسرے سے دور نہیں۔کسی انسان یا چیز کے بارے معلوم کرنا ھو تو چند منٹ یا چند سیکنڈ درکار ھیں۔اسی طرح کلچر بھی اب ایک دوسرے سے بہت اجنبی نہیں رہے۔
جرمنی میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان آباد ھیں
لہٰذا اسلامی کلچر تیزی سے پھیل رہا ھے۔ ابھی کل ھی کی بات ھے کہ ایک بڑے شہر کے وسط میں عورتوں نے اسلامی سٹال لگایا چند خواتین تھیں ایک کرسی اور سائیڈ کی میز پر سکارف رکھے تھے اور دعوت عام تھی کہ آئیں اسلامی حجاب کو باندھیں اور محسوس کریں ۔ کئی ینگ لڑکیاں آئیں کرسی پر بیٹھ کر سر پر حجاب باندھ کر خوشی محسوس کر رہی تھی اور تحفے میں سکارف لے کر جا رہی تھیں۔ یہ حجاب باندھنے میں مدد کرنے والی عورتیں ترکی اور ملک شام کی تھیں جو اپنا فرض ادا کر رہی تھیں کہ نوجوان نسل کو اسلامی اقدار سے روشناس کرایا جائے۔ مرد حضرات بھی وھاں تھوڑی دور کھانے کے سٹال لگائے ھوئے تھے کہ اسلامی کھانے روشناس کرایے جائیں نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے دوستوں کو لے کر آتے ہیں اور تعارف بڑھاتے ھیں اور ساتھ اسلام کی تبلیغ بھی کرتے ھیں۔
پورا ہفتہ کام کرنے کے بعد اتنی سردی میں کون سڑک پر سارا دن کام کرنا چاہے گا؟ مگر ضروری اس لئے سمجھا جا آرہا ھے کہ اگلی نسل کو اللہ ھدایت دیگا انشا اللّہ
اب کچھ اپنے ملک کا ذکر ھو جائے۔
چند ماہ قبل دو لڑکیوں نے پورے میڈیا پر ادھم مچائے رکھا ہر چینل کے ان کو کوریج دی جگہ جگہ ان کے انٹر و یوز ھوئے اور مزے لے لے کر ان سے ان کے کرتوت سنے اور دکھائے گئے اب شائد ملک سے باہر چلیں گئیں ھیں یا اُن کو بجھوا دیا گیا ۔ اس کے بعد ڈرامے کی پبلیسٹی ھوئی
“دانش مر گیا” کافی دنوں بعد سمجھ آئی کہ دانش کون تھا جس کا افسوس اتنی شدت سے ھو رھا تھا
اب ویلنٹائین کا دن قریب ھے لہٰذا اس کی تیاری
زوروشور سے جاری ھے جگہ جگہ بکنگ بھی ھو گی
پارٹیاں بھی کی جائیں گی اور کئی عزتیں بھی تار تار ھوں گی۔ اس کی تیاری کیا ھو رھی ھے ؟
“نکاح کو عام کرو” ایک نویں کلاس کی بچی اور بچے کی تصویر لگا کر فرض پورا ھو گیا۔یہ سوچے بغیر کہ یہ بچے گھر کیسے چلائیں گے؟
والدین سے التجا ھے اس ایک یا دو دن میں اپنے بچوں پر خاص نگاہ رکھیں ساری فیملی کو گھر مصروف رکھیں کسی کو باہر کسی بہانے سے نہ جانے دیں۔ نہایت مجبوری ہو تو خود ہمراہ جائیں کسی چھوٹے بچے کو ساتھ نہ جانے دیں ۔ جو بچے اپنے کمروں میں دروازے بند کرتے ھیں ان کی چابیاں نکالیں اور ان کو بھی کمروں سے اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھائیں۔پوری فیملی ساتھ وقت گذارے۔ ماؤں سے بچے جھوٹ بول کر یا ضد کر کے بات منوا لیتے ھیں۔ باپ بھی خاص توجہ دیں ۔ بچے اکثر آنکھوں میں دھول جھونک جاتے
ہیں آنکھیں بند کر کے ان پر اعتبار مت کریں۔
اگر آج میرے بڑے اور بزر گ اپنی ذمہ داری نبھائیں گے تو یقیناً آئندا زندگی سر اٹھا کر چلیں گے۔
اس امید کے ساتھ کہ۔ “ شاید کسی دل میں اُتر جائے میرے بات”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں