”دیکھو سرکارﷺ کیسے ہیں‘‘ (رپورٹ:علی عثمان)

ماہ ربیع الاوّل کی منا سبت سے ادارہ منہاج القرا ن انٹرنیشنل کے شعبہ نظامت تربیت کے زیر اہتمام سہ روزہ عظیم الشان سیشن ”دیکھو سرکا ر کیسے ہیں‘ ‘ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے سلسلہ کتب ”کانک تراہ“ سے استفادہ حاصل کیاگیا۔ سوشل میڈیا پر لائیو نشر کئے گئے سیشن میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔مختصر وقت میں جامع کتب (خلق عظیم کا پیکر جمیل،حضورنبی اکرم ﷺ کے خصائل مبارکہ اور جامع کلمات نبوی ﷺ) کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔اس شاندار سیشن میں درس و تدریس کا فریضہ حافظ محمد سعید رضا بغدادی کے زیر سایہ علامہ محمود مسعود قادری اور علامہ محمد سرفراز قادری نے بخوبی سر انجام دیا۔ علامہ حسن محمود جماعتی نے پیکر حسن وجمال کے تصور اور شمائل نبویﷺ کی تلقین کی اس کلاس کی منتظمی اور لائیو نشریات کا اہتمام کیا۔
عشق و مستی سے بھر پور ان سہ روز میں آقائے دو جہاں ﷺ کے جسم اطہر،خصائل وشمائل کا ایسا حسین تصور پیش کیا گیا کہ میرے سرکار ایسے تھے ۔
جنہیں دیکھ کرمر جھائی کلیاں کھل اٹھیں۔بے چین دل چین پا جائیں۔روح کو قرار مل جائے۔منبع حسن ایسا کہ چاند سے حسین اور سورج سے روشن تھا۔جسم اطہر سے ہر وقت نور کی برسات ہوتی۔جو ایک بار دیکھ لے وہ دیکھتا ہی رہ جاتا۔چہرہ مبارک ایسا د لربا کہ خود رب العزت اس رخ روشن کی قسمیں بیان فرماتا۔ آپ ﷺ کے حسن کی وضاحت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے فرماتی ہیں۔
”زلیخا کی سہیلیاں اگر حضورنبی اکرم ﷺ کا چہرہ انور
دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کی بجائے اپنے دلوں کو کاٹ لیتیں“۔
آپﷺ کی شخصیت ظاہری حسن میں سب سے اعلیٰ اور اخلاق میں سب سے ممتاز ہے۔ جتنے بھی انبیاءکرام گزرے ہیں ان میں جو بھی جزوی صفات تھیں۔وہ تمام صفات سرکار ﷺکے وجود میںجمع تھیں۔
حسن ےوسف،دم عیسیٰ،ےد بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند ، تو تنہاداری
ظاہری حسن کے ساتھ حسن خلق بھی نظر آتا۔آپ ﷺکی ذات پاک میںحضرت عیسیٰؓ کا حلم ،حضرت موسیٰؓ کا جوش اور حضرت ایوبؓ کا صبر پایا جاتا۔آپ ﷺ کے جسم اطہر میںبشریت اور نورانیت دونوں کے اوصاف موجود تھے۔گویا آپﷺ بیک وقت بشرا و ر نو ر کا پیکر تھے۔مختصر یہ کہ خضور جیسا نہ کوئی تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں