حاتم طائی اینڈ کمپنی (از: افتخار احمد جرمنی)

لوگ مہنگائی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں غربت کی شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے لمحہ فکریہ ہے دو وقت کی روٹی تو سہانا خواب غریب ایک وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے صرف غریب ہی نہیں اس سے کہیں زیادہ مہنگائی کا پھندہ متوسط طبقے کے گلے میں آن پڑا ہے غریب کا بچہ تو سڑک کنارے بوٹ پالش کر کے چار پیسے کما لیتا ہے مگر متوسط طبقہ جو اپنے بچے سکول بھیجتا ہے اس کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ابھی کل ایک ماں اپنے چھوٹے بچے کو سینے سے لگا کر ٹرین کے آگے اس لئے کود گئی کہ اس سے مکان کا کرایہ نہیں دیا جا رہا تھا فرات کے کنارے کتے کے بھوکے مرنے کی مثالیں دینے والوں نے اس واقعے کا نوٹس تک نہیں لیا گویا وہ جانتے ہیں کہ یہ ابھی شروعات ہیں ۔زمانہ قدیم میں ظالم اور جابر حکمران اپنی رعایا کو بھوکے رکھ کر ان کی غربت کا تماشہ دیکھا کرتے تھے کچھ ایسے ہی مناظر آجکل ٹی وی ٹاک شوز میں دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں حکومتی ارکان مہنگائی کے طوفان کو محض اپوزیشن اور میڈیا کا پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں، دو روز قبل حاتم طائی اینڈ کمپنی نے یوٹیلٹی سٹورز پر پندرہ ارب روپے کی جس سبسٹڈی کا ڈھنڈھورا پیٹا وہ چھ ماہ کے لئے ہے یعنی اڑھائی ارب سالانہ ، اگر حساب لگایا جائے تو فی کس سات روپے ماہانہ کا ریلیف ملے گا مزاحکہ خیز خبر یہ کہ ابھی رقم جاری نہیں کی گئی مگر یوٹیلٹی سٹورز پر فروخت ہونے والی بعض اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی گئیں اور ساتھ ہی بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھانے کی نوید سنا دی گئی یعنی ایک ہاتھ سے لو اور دونوں ہاتھوں سے دو( یاد رہے کہ یوٹیلٹی سٹورز صرف بڑے شہروں میں بنائے گئے ہیں ملک کی ستر فیصد آبادی ان سے پہلے ہی کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہی ) زمانہ قدیم کے راشن ڈپو قائم کرنے اور راشن کارڈ کے اجراء کا بیان بھی جاری ہوا ہے گویا کہ اب ایٹمی قوت کے ملک کی عوام کو بطور سزا تپتی دھوپ اور کڑاکے کی سردی میں قطاروں میں گھنٹوں کھڑے بھی ہونا ہے ۔وزیر اعظم کا یہ بیان غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ انہیں جو تنخواہ ملتی ہے اس سے ان کے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے ، موصوف سارا دن وزیر اعظم ہاوس کی عالیشان عمارت میں اور رات کو بنی گالا میں بنے اپنے 300 کنال کے عظیم الشان گھر میں رہتے ہیں ان کا پورا کنبہ دو افراد اور تین کتوں پر مشتمل ہے اگر وہ برطانوی وزیر اعظم کی طرح 10 ڈاوننگ سٹریٹ پر بنے چار کمروں پر مشتمل دفتر اور گھر میں منتقل ہو جائیں یا ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کی طرح ایک عام سے علاقے کے کسی چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پذیر ہو جائیں تو نہ صرف ان کا اس تنخواہ میں گزارہ بہت اچھا ہو گا بلکہ اچھی خاصی بچت بھی ہو جائے گی ۔اسلام آباد کی ڈی گراؤنڈ پر 126 دن دھرنے کے دوران عوام کو تعلیم ، صحت ، انصاف ، صاف پانی ، گھر ، ملازمتوں اور بجلی گیس و سستی پیٹرولیم مصنوعات کے جو سنہرے خواب دکھائے تھے وہ ڈیڑھ برس میں ہی ہوا ہو گئے۔
کیا یہی تھی وہ تبدیلی جس کے لئے ” کپتان ” نے بائیس سال جدوجہد کی تھی ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں