میں نہ مانوں(از:افتخار احمد .جرمنی )

چین سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بڑے سے بڑا ملک بھی اس کی زد سے محفوظ نہ رہ سکا اور نہ ہی اس کی دوا ایجاد کر پایا لے دے کر سبھی اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس موذی وائرس سے اپنی عوام کو بچا سکیں بہت سے ممالک نے بروقت لاک ڈاون کے ذریعے شرح اموات میں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی جبکہ اٹلی جیسا ملک بروقت اقدامات نہ کرنے کی پاداش میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ جانی نقصان کروا کر سرفہرست ہے پاکستان جس کی معشیعت پہلے ہی خلاء میں معلق تھی وہ بھی اس کی زد میں ہے ہمارے وزیراعظم جو وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے سے قبل کبھی کسی بلدیاتی حلقے کے ناظم بھی نہیں رہے کہ جہاں سے انہوں نے کوئی تجربہ حاصل کیا ہوتا لے دے کر گیارہ کھلاڑیوں کی کرکٹ ٹیم کی کپتانی ہی ان کا تجربہ ہے جس کی بنیاد پر وہ بائیس کروڑ افراد کے ملک کو چلانے کے تجربات کر رہے ہیں ملک چل کس طرح رہا ہے گزشتہ دو روز کی صورتحال سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں ، آج جب ملک کو یکجہتی کی اشد ضرورت تھی کہ کرونا وائرس کے خلاف متحد ہوکر اس کا مقابلہ کیا جائے اسی ضرورت کے تحت حکومت کی طرف سے قومی راہنماؤں کا اجلاس بلایا گیا جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنما اپنی تجاویز لئے موجود تھے ویڈیو لنک کے ذریعے وزیراعظم سکرین پر نمودار ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار کر کے جن میں تمام تر زور لاک ڈاون کی مخالفت پر تھا اٹھ کر رخصت ہوئے جو راہنما اپنی تجاویز کے ساتھ تیاری کر کے آئے تھے وہ حیران پریشان تھے کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ لہذا قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری و دیگر واک آوٹ کرتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے ملک کی انتہائی نازک صورتحال پر جس یکجہتی کی اشد ضرورت تھی وزیراعظم نے اپنے غلط رویے کی وجہ سے اسے خود ہی سبوتاژ کیا ۔ اس سے ایک روز قبل وزیراعظم کا یہ کہنا کہ محض میڈیا کی باتیں سن کر تین صوبوں نے لاک ڈاون کے اعلانات کر دئے جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے نجی ٹی وی چینل کے ایک اینکر پرسن نے جب یہی سوال وزیر اطلاعات سندھ سے کیا تو اس نے وزیراعظم کی اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ وفاق کو اعتماد میں لے کر کیا تھا وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے بندرگاہ سے سامان اتارنے پر پابندی عائد کی تھی جس کی وجہ سے بیرونی ممالک سے دالیں جیسی ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہو جاتی ان کی مداخلت سے دوبارہ وہاں سامان اتارنے کی اجازت ہوئی وزیر اطلاعات سندھ نے اسے وزیراعظم کی لاعلمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شپنگ کے وزارت وفاق کے پاس ہے اور پی ٹی آئی کے علی زیدی اس کے وفاقی وزیر ہیں سندھ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں نہ ہی وہ ایسا کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا ہوا ۔وزیراعظم نے لاک ڈاون کی مخالفت میں مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں لاک ڈاون کی وجہ سے پٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اینکر پرسن نے وزیر اعلی گلگت بلتستان سے رابطہ کر کے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پورے ایک ماہ کی پیٹرولیم مصنوعات کا سٹاک موجود ہے قلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وزیراعظم کی یہ اطلاع درست نہیں، اینکر پرسن نے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون نہ ہوا تو وائرس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا وزیراعظم کا آج یہ بھی کہنا تھا کہ تعمیرات کے کام نہیں رکنے چاہیئں سن کر عقل دنگ رہ گئی کہ گلیوں بازاروں میں موت انسانوں کا پیچھا کرتی انہیں ڈھونڈ رہی ہے اور وزیراعظم کو تعمیرات کی فکر ستا رہی ہے وزیراعظم آج سوال کر رہے تھے کہ گھروں میں بند لوگوں کو کھانا کیسے پہنچائیں گے جبکہ آج ہی ہمسایہ ملک کا وزیراعظم نریندر مودی قوم کو پیغام دے رہا تھا کہ اکیس روز تک گھروں کے اندر رہیں باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں کھانا آپ کے گھر کے دروازے پر پہنچ جائے گا ۔جو مقتدر حلقے وزیراعظم کو کندھوں پر بٹھا کر لے کر آئے تھے وہ ، اپوزیشن اور تین صوبے ایک پیج پر ہیں جبکہ وزیراعظم ابھی بھی میں نہ مانوں کا راگ الاپ رہے ہیں غفلت سے جس جانی نقصان کا اندیشہ ہے اس کا اندازہ ایک سرکاری طبی ماہر نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ ” میرے منہ میں خاک مگر بہت کچھ ہو چکا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ سڑکوں پر لاشوں کے انبار ہیں مگر اٹھانے والا کوئی نہیں ”
اللہ تعالی پاکستانی قوم پر اپنا رحم فرمائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں