قربانی کا بکرا”ڈاکٹراے کیوخان”(از: افتخار احمد .جرمنی)

حال ہی میں مسلم لیگ ق کے راہنمااور سابق وزیراعظم و وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین کی نئی کتاب سچ تو یہ ہے شائع ہوئی ہے کتاب میں جہاں بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے وہاں آپریشن لال مسجد اکبر بگٹی کے قتل اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اعترافی بیان کی حقیقت بھی بے نقاب ہوئی ہے چوہدری شجاعت حسین سچ تو یہ ہے کے صفحہ 216پر لکھتے ہیں کہ!
ڈاکٹر عبدالقدیرخان سے میرا پہلا براہ راست رابطہ اس زمانے میں ہوا جب میں وزیرداخلہ تھا مجھے یاد ہے کہ میں اپنے دفتر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ڈاکٹر عبدالقدیرخان کا فون آیا،وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے کہنے لگے کہ چوہدری صاحب!
سی ڈی اے کے اہلکارمیرے گھر کو گرانے کے لئےآ گئے ہیں ان کے ہمراہ بلڈنگ گرانے کی تمام مشینری بھی ہے آپ اس معاملے میں کچھ کریں،فون رکھتے ہی میں نے گاڑی نکلوائی اور سیدھا ان کے گھر پہنچ گیا دیکھا تو سی ڈی اے کے اہلکارواقع مشینری سمیت ان کے گھر کے باہر کھڑے تھے میں نے ان سے بات چیت کی اور ان کو وہاں سے جانے کے لئے کہا سی ڈی اے اہلکار مشینری سمیت واپس چلے گئے یوں ڈاکٹر صاحب کا گھر گرائے جانے کا معاملہ رفع دفع ہو گیا
ڈاکٹر صاحب پر جوہری توانائی بیچنے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد ہوا تو ایک روز صدر مشرف نے مجھے اور ایس ایم ظفر کو بلا کر کہا کہ آپ دونوں حضرات ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ اس معاملے پر وہ قوم سے معافی مانگیں، کچھ توقف کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ چودھری صاحب! مناسب یہ ہے کہ آپ اکیلے ہی جائیں اور ان سے بات کریں ۔میں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب سے ان کے گھر میں ملاقات کی اور ان کو جنرل مشرف کا پیغام پہنچایا ، وہ کہنے لگے ” چودھری صاحب ! مجھ پر یہ الزام سراسر جھوٹ ہے میں نے کوئی چیز فروخت نہیں کی نہ میں نے کسی سے کوئی رقم لی ہے یہ فرنیچر جو میرے گھر میں آپ دیکھ رہے ہیں یہ بھی میری بیگم کے جہیز کا ہے میری تو یہ حالت ہے کہ نیا فرنیچر تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا یہ لوگ مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں ” ۔
بحرحال ڈاکٹر عبدالقدیر خان نےملک وقوم کے مفاد میں ٹی وی پر آ کر سارا الزام اپنے سر لے لیا ۔ اس پر میں نے ایک بیان جاری کیا جس کا متن یہ ہے ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے اور قومی مفاد میں ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے انہوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی تفتیش کاروں کو کوئی بیان دیا ہے، میں نے گزشتہ روز ڈاکٹر قدیر خان کو ملاقات میں ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی ، انہوں نے تمام تر ذمہ داری اپنے سر لے کر ملک وقوم کے لئے پہلے سے بڑھ کر کام کیا ہے جس سے ملک میں کنفیوژن کا خاتمہ ہوا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کمزور سمجھ کر بیرونی دنیا ہم پر پریشر ڈال رہی ہے ” ۔
میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت ڈاکٹر صاحب نے معاملے کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے کر پاکستان کو ایک انتہائی مشکل صورتحال سے نکالا تھا اور یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی ، ڈاکٹر صاحب کے اس ایثار و قربانی سے میرے دل میں ان کی عزت مزید بڑھ گئی ہے ۔
چوہدری شجاعت حسین نے کم از کم اتنا تو بتا دیا کہ اگر کوئی جرم سرزد ہوا تھا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کے اکیلے ذمہ دار نہیں تھے جن کے کہنے پر وہ ملک و قوم کی خاطر قربانی کا بکرا بنے بعد از انہوں نے ہی دنیا بھر میں انہیں ذلیل وخوار کیا جنرل مشرف خود تو بیرون ممالک اربوں ڈالر کے اثاثوں کا مالک بنا اور ” محسن پاکستان ” نہ صرف فاقوں پر مجبور ہوا بلکہ آج تک جبری قید تنہائی کاٹنے پر مجبور ہے قوم کے اس ” محسن ” کو جتنی پینشن ملتی ہے وہ کسی بھی سرکاری ادارے کے چپڑاسی سے بھی کم تر ہے گزشتہ دنوں جب سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے وکلاء کی ان سے تنہائی میں ملاقات کروائی جائے تو عدالتی حکم کی تعمیل نہ ہو سکی سیکورٹی حکام اس ملاقات میں بدستور موجود رہے ، انہیں کس بات کا خوف ہے سب بخوبی جانتے ہیں جو کچھ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ملک کے اصل حکمرانوں اور قوم نے کیا اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے 84 سالہ ڈاکٹرخان اور کتنا جئے گا ؟
جو خدمت انہوں نے ملک وقوم کی کی تھی اس کا صلہ انہوں نے پا لیا ، حکمران اعلی اور قوم ان کے مرنے کا بےتابی سے انتظار کر رہی ہیں کہ قومی پرچم میں لپٹی ان کی لاش کو اکیس توپوں کی سلامی اور ایک تاریخی جلوس کے ساتھ دفن کر کے ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کریں جس کے اوپر واشگاف الفاظ میں کنندہ ہو ” محسن پاکستان ” ۔
کیا ہی اچھا ہو اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک وصیت کر جائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی تدفین نہایت سادگی اور خاموشی سے کی جائے جہاں نہ پرچم ہو نہ توپ اور نا توپچی ، ان کے جنازے اور تدفین میں ماسوائے ان کے قریبی رشتہ داروں اوردوستوں کے علاوہ اور کوئی شریک نہ ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں