ڈاکٹر طارق سلیم”ایک ہمہ پہلو شخصیت”(از:راجہ نصرت )

امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم
ایک ہمہ پہلو شخصیت

گجرات شہر کی ممتازو معروف شخصیت ڈاکٹر طارق سلیم کی بڑی پہچان تو جماعت اسلامی ہے لیکن وہ اس لحاظ سے انتہائی منفرد جماعتی ہیں کہ وہ مجسمہ تحریک اسلامی ڈاکٹر سیّد احسان اللہ شہید کی دریافت ہیں اور جماعت کی نمائندگی ایک نہایت روادار، متوازن اور انسان دوست شخصیت کے طورپر کرتے ہیں۔جماعت اسلامی گجرات کے ضلعی صدر دفتر میں جمعہ کی معمول کی نماز میں اہم اور پڑھے لکھے افراد کی بڑی تعداد میں شرکت میں ان کے خطبات کا بھی کافی عمل دخل ہے ۔ وقت آڑے نہ آئے تو وہ کسی بھی تقریب یا دعائیہ اجتماع میں شرکت کی دعوت کو قبول کرتے ہیں لیکن قابل ذکر اورکسی جماعتی کیلئے قابل فخر بات یہ ہے کہ عام طور پر اہم سماجی وسیاسی گھرا نے اپنے پیاروں کی جدائی کے مواقع پر انہیں دعائے مغفرت یا ختم قل کے پروگرام پر خصوصی خطاب کیلئے دعوت دیتے ہیں بڑے گھرانوں کے ایسے پروگرامات میں شرکاء کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور مہمان بھی ہرطرح کے ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پرڈاکٹر صاحب قرآن وحدیث کی روشنی میں کسی ملاوٹ کے بغیرجب پرتاثیر فلسفہ موت و حیات بیان فرماتے ہیں تو لوگ انہیں مسلک یافرقہ سے بالاتر ہوکر سنتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ ان کی گفتگو خالص اسلامی، عوامی اور معاشرتی یکجہتی کا پیغام ہوتی ہے اور ہمارے ہاں ذی شعور لوگ اس کی ضرورت بھی محسوس کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی دعوت اور پروگرام کا تقاضا بھی یہی ہے چونکہ جماعت کی اسلامائزیشن کی سیاست کی کامیابی کیلئے ایسا ہی مناسب اور موزوں ماحول درکار ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے قائدین کے ہرمکتبہ فکرکے لوگوں سے میل جھول کو بعض مذہبی حلقے تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اقامت دین کی جدوجہد میں ر واداری کارویہ ناگزیرضرورت ہے یعنی اسلامائزیشن یا دین اسلام کا بول بالا اسلامی سیاست کے بغیرتو ممکن نہیں البتہ مسلک کی سیاست نہ صرف اسلامائزیشن میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ ملکی سیاست کی صحت پرمنفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سیّدمودودیؒ کی تحریروں اور تقریروں سے بھی یہی تاثر ابھرتا ہے کہ قرآن و حدیث کا پیغام پہنچانے میں تو کسی مصلحت یا مجبوری کو رکاوٹ نہ بننے دیاجائے لیکن سماجی معاملات میں وتواصوبالحق ِ وتواصو بالصّبرکا عملی نمونہ پیش کیاجائے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کی بھی یہی حکمت عملی ہے۔ اگرچہ جماعت کے ہر ورکر کی تربیت میں رواداری کادرس شامل ہے لیکن ڈاکٹرصاحب کی ذمہ داریوں کی نوعیت، سیاسی ونظریاتی چیلنجزاور اعلیٰ قیادت کی ان سے توقعات نے انہیں ایک چلتی پھرتی جماعت اسلامی بنادیاہوا ہے ان کا مطالعہ غیرمعمولی ہے اپنے عملی تجربہ اور خداداد صلاحیتوں کے باعث نہ صرف ضلع گجرات میں بلکہ پورے شمالی پنجاب میں جماعت اسلامی کی د عوت کا رول ماڈل دکھائی دیتے ہیں۔ تمام اسلامی مکاتب فکر کے لوگوں سے ان کا دوستانہ میل جھول، گجرات شہر کے مستندوسرکردہ میڈیاگروپس اور صحافیبرادری سے ان کے تعلقات بھی بڑے قابل ذکر ہیں چونکہ گجرات کی ملکی سیاست میں اہمیت کے باعث یہاں کا میڈیا انتہائی پیشہ ور، محتاط اور جارح بھی ہے اس کے ساتھ کسی لیڈر کے میرٹ پر اور کسی بزنس سٹیک کے بغیر اچھے تعلقات ہونا واقعتاً ایک غیرمعمولی بات ہے البتہ یہ تو معزز صحافی حضرات ہی بتاسکتے ہیں کہ ڈاکٹر طارق سلیم میں ایسی کیا خوبی ہے کہ صحافی برادری کی ان کے ساتھ اتنی زیادہ خیرسگالی ہے؟ گجرات پریس کلب کے سابق صدوروسیم بٹ،بشارت لودھی، سیّد عرفان جعفری، راجہ تیمورطارق وغیرہ اور موجودہ صدر محموداختر محمود ان کے ذاتی دوستوں میں شامل ہیں۔ گجرات کی صحافت کا بڑا نام شہویز ملک مرحوم تو ان کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ تھے۔چیف ایڈیٹر روزنامہ جذبہ داؤد خاں کے ساتھ بھی ان کے بہت دوستانہ تعلقات ہیں۔ ان کی شخصی خوبیاں اور صلاحیتیں یقیناً قدرت کی عطا ہیں اور ان کے نکھارمیں ان کے خاندان اور اساتذہ کا بھی عمل دخل ہوگالیکن شاید ان کی شخصیت کے ابھار میں سب سے زیادہ حصہ جماعت اسلامی کا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت کے ساتھ وابستگی سے بھی ان کے سیرت وکردار اور قائدانہ صلاحیتوں کو یقینی طور پر جلا ملی ہوگی چونکہ جمعیت میں طلبہ و طالبات کو ایسے مواقع یقیناً میسر آتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی تربیت اور ذمہ داریاں سیرت وکردار میں پختگی اور نکھار لاتی ہیں لیکن شاید ان کا موجودہ نام و مقام جماعت اسلامی کی تنظیم میں جمہوریت، میرٹ اور برابر کے مواقع کا ثمر ہے کہ قدرتی طور پرباصلاحیت ڈاکٹر طارق سلیم کو اس کافائدہ ہونا تھا چونکہ انہیں جماعت میں جو بھی ذمہ داری دی گئی ان کے خلوص، جذبہ ایثار اور غیرمعمولی صلاحیتوں نے قیادت کی توقعات میں اضافہ ہی کیا۔اگرچہ جماعت اسلامی سے ان کی وابستگی خاندانی تھی یا زمانہ طالب علمی سے شروع ہوئی لیکن شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جماعت اسلامی کی کتنی بڑی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطاکرے گا۔ چونکہ ان کی اپنی منصوبہ بندی تو ایک اچھا ہومیو ڈاکٹر بننے کی تھی اپنے علاقہ دولت نگر میں کلینک چل بھی رہاتھا۔لیکن بندہ درحقیقت اچھی یابری نیت ہی کرتاہے یاکسی کام کے بارے میں سوچتا اور منصوبہ بندی ہی کرتاہے لیکن وہ کچھ بھی کرنے پر قادر نہیں ہوتا بلکہ وہی کچھ ہوتاہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ سابق امیرجماعت اسلامی ضلع گجرات ڈاکٹر سیّد احسان اللہ شاہ شہید کی ان سے ملاقاتوں کی تفصیل کاتو علم نہیں ہے لیکن شنید ہے کہ ڈاکٹر طارق سلیم ان ہی کا انتخاب تھے یقیناً اس درویش صفت کامل تحریکی انسان کو ان کی معاملہ فہمی اورقائدانہ صلا حیتوں کا پختہ یقین ہوگیاہوگا تب ہی انہوں نے انہیں شروع میں ہی ضلع کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ اری سونپ دی جو کل وقتی کام تھا۔ اس وقت شاید عام لوگوں اور ارکان جماعت کیلئے یہ تعجب کی بات تھی کہشہویز ملک مرحوم جیسے انتہائی بائیں بازو کے صحافی اور روز نا مہ جذبہ کے موجودہ چیف ایڈیٹرداؤد خاں دن کا زیادہ وقت ڈاکٹر صاحب کی صحبت میں گزارتے تھے ان میں ممتاز صحافی انور شیخ بھی باقاعدگی سے شامل ہوتے اور محفل کو بہت زعفرانی بنائے رکھتے تھے۔ اسلامک سنٹر میں مسجد قرطبہ میں نمازجمعہ کے بعد صحافیوں سے نشست کی روایت تو ڈاکٹر سیّداحسان اللہ شہید کے دور سے چلی آرہی ہے اور اب بھی یہ برقرار ہے۔میڈیا سے اچھے تعلقات اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے میل جھول کے مسلسل عمل کا یہ قدرتی ثمر ہے کہ گجرات کے تمام اخبارات میں جماعت کی خبریں شائع ہوتی ہیں اور جماعت اسلامی گجرات میں بڑے دھارے (Main Stream) کی عوامی سیاسی جماعت شمار ہوتی ہے اور بتدریج مقبول ہو رہی ہے۔ جماعت کی اعلیٰ قیادت گجرات کے دورہ پر بڑے میڈیا گروپس کے نمائندوں کو پاکر ایک نہایت مؤثر و فعال جماعت کاتاثر لے کر واپس جاتی ہے۔ اسلامک سنٹر کے لئے زمین کی خریداری اوراس کی تعمیردونوں ڈاکٹرز ڈاکٹرسیّد احسان اللہ شہید اور ڈاکٹر طارق سلیم کابڑا کارنامہ ہے اسلامک سنٹرکا افتتاح ڈاکٹر سیّد احسان اللہ کی زندگی میں ہی ہوگیاتھا۔ان کے بعد بھی ڈاکٹر طارق سلیم صاحب کی نگرانی میں ان کی ٹیم نے کام کو رکنے نہیں دیا۔ ہر آزمائش نے ڈاکٹر طارق سلیم کے نام و مقام کو بلند کیاہے۔ اسلامک سنٹر کیلئے فنڈ ریزنگ کے دوران نہ صرف وہ اوورسیز پاکستانیوں کے بڑے قریب ہو گئے بلکہ ہرطبقہ فکر کے لوگوں سے ان کے تعلقات قائم ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کے وسیع سماجی و سیاسی روابط کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مظلوم کو حق یا انصاف دلانے کیلئے اپنی جماعت اسلامی کی حیثیت کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی سطح کیحکومتیشخصیات یاسرکاری افسران سے مل کر مسائل حل کرانے کاملکہ رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی یا الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں سے کام لینے اور ان کا ذوق ابھارنے کیلئے جن قائدانہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ڈاکٹر طارق سلیم کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہوئی ہیں ضلع گجرات میں انہیں دو نامور وکلاء سیّد ضیاء اللہ شاہ بطور امیرضلع اور چوہدری انصردھول بطور صدرالخدمت فاؤندیشن کا تعاون حاصل ہے اسی طرح نائب ضلعی امراء چوہدری عمران انور اورمیاں شبیر خاور بھی ان کے قابل اعتماد ساتھیوں میں شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں