ناکام خان ( کاشف نعیم .بی ۔ اے )

پاکستان کی گذشتہ بہتر سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو عمران خان کی حکومت سب سے بد ترین قرار پائے گی رنگ برنگے اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے لوٹے ان کے کسی کام نہ آ سکے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ایک جاہل اور اپنے ہی جیسے ایک نا تجربہ کار شخص کے حوالے کر کے ملکی معشیت کی چولیں ہلا دیں، ضد ہے کہ صوبہ جائے بھاڑ میں وزیر اعلی یہی رہے گا ، کیوں؟ وجہ سب کو معلوم ہے ۔ مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان جو گذشتہ روز منجھی تھلے سوٹا پھیر رہی تھیں حکومتی سنجیدگی کی بدترین مثال ہیں کبھی کوئی منسٹر فوجی بوٹ لے کر میز پر رکھ دیتا ہے تو کوئی جان اللہ کو دینی ہے کے دعوے کر کے تماشا بن چکا ہے جو سب سے زیادہ زبان تراش پنڈی بوائے تھا سپریم کورٹ میں دو ہی پیشیوں کے بعد کام کرنے چل نکلا ہے جتنی بربادی اس نے ریلوے کی کی وہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گی آئے روز کے حادثات نے انجنوں اور بوگیوں کے انجر پنجر ہلا کر رکھ دئے ملکی زراعت تباہ ہو چکی گندم چینی کے بحران عوام کا رہا سہا خون بھی نچوڑ گئے دالیں سبزیاں پھل عوام کی پہنچ سے باہر ہو سکے سب سے سستا حج چار لاکھ نوے ہزار روپے میں ہو گا حجاج کرام مکہ اور مدینہ میں جا کر حکومت وقت کو کتنی دعائیں دیں گے اندازہ کیا جا سکتا ہے کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ جو دھوکہ عمران خان نے کیا وقت کے ساتھ ساتھ راز افشاء ہو جائے گا پہلے ہر جمعہ کے روز ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کے ڈرامے بازی کرنے کا کہا گیا تھا اب وہ سلسلہ بھی روک دیا گیا ہے کبھی امریکی اور سعودی کیمپ میں تو کبھی ملائشیا اور ترکی کی گود میں ، دوسرے الفاظ میں ” جنے پایا گلی اوہدے نال ای چلی ” ہماری خارجہ پالیسی ہے ۔ چوروں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے خان صاحب اتنے آگے نکل گئے کہ چور بہت پیچھے رہ گئے ، جن اداروں کے ایک پیج پر ہونے کے دعوے کئے جا رہے تھے وہ دھرے کے دھرے رہ گئے ادارے ان کی نا اہلی کو پہچان کر دور جا کھڑے ہوئے جو کہ اداروں کے لئے بہت بہتر ہے ملکی معشیت جس کے بہتر ہونے کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے میں خان صاحب کو امید تھی کہ اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ذریعے انہیں ہٹا کر کوئی اور شخص سامنے لا کر انہیں سیاسی شہید ہونے کا موقع فراہم کر دے گی بھی کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا پنجاب میں جو ہونے جا رہا تھا وہ بھی اس لئے رک گیا کہ مسلم لیگ ن نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کی حمایت کرنے کے بجائے چند ماہ اور انتظار کر لیا جائے بجٹ کے بعد مہنگائی کا جو طوفان اٹھے گا حکومت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی اس وقت جو تحریک چلائی جائے گی وہ حکومت کو نئے انتخابات کرانے پر مجبور کر دے گی اس وقت تک عوام کے سر سے نئے پاکستان کا بھوت اتر چکا ہو گا جو پی ٹی آئی کا ملک سے ہمیشہ کے لیے صفایا کر دے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں