میرا جسم میری مرضی (از: کاشف نعیم بی اے )

میرا جسم میری مرضی
میری غیرت میرا مسلہ
آوارہ نہیں آزاد ہوں
یہ وہ نعرے ہیں جو پچھلے سال عورت مارچ کے دوران اور آجکل میڈیا پر گونج رہے ہیں تھوڑی سی تحقیق کی جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آزادی کے نام پر فحاشی پھیلانے کے پیچھے ان این جی اوز کا ہاتھ ہے جو بیرونی ممالک سے ڈالر یورو اور پونڈ حاصل کرتے ہیں جو خواتین اس بے ہودگی کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں انہیں سب جانتے اور پہچانتے ہیں معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر کی خاتون صحافی ماروی سرمد کی نوک جھونک ایک جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے کہا جا رہا ہے کہ خلیل الرحمان قمر نے ایک لائیو پروگرام میں ماروی سرمد کو گالی دے ڈالی جس سے اس آزاد خیال خاتون صحافی کے جذبات مجروح ہوئے آج وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے سابق ترجمان شہباز گل کی ایک ٹویٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق اس عزت دار خاتون صحافی نے 2010 ء میں ایک لائیو پروگرام میں معروف اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کے بارے میں نہ صرف نازیبا الفاظ کہے تھے بلکہ ماں کی گالی بھی دی تھی اگر ایک آزاد خیال خاتون صحافی کا کسی مرد صحافی کو ماں کی گالی دینا کل جائز تھا تو پھر آج مرد رائٹر کا خاتون کو گالی دینا کیسے ناجائز ہو گیا ؟ یہ محض ایک تماشہ ہے جو 8 مارچ کے عورت مارچ کو مقبول کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے ۔ یورپ امریکہ و دیگر آزاد خیال ممالک میں عریانی فحاشی و دیگر خرافات نے جو اودھم مچایا اس میں انسان اور جانور میں کوئی تمیز باقی نہیں رہی پاکستان وہ اسلامی ملک ہے جس میں آج بھی شرم و حیا باقی ہے جہاں مائیں اپنی بیٹیوں کو شرم و حیا کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں والدین کی عزت و احترام اولاد کی شرم و حیا سے وابستہ ہے اسلام نے جو عزت و احترام عورت کو دیا وہ کوئی اور مذہب نہ دے سکا قرآن مجید اس بارے میں احکامات سے بھرا پڑا ہے، نہیں معلوم کہ وہ کونسا باپ بھائی یا خاوند ہے جو اپنی بیٹی بہن یا بیوی کو سڑکوں پر ” میرا جسم میری مرضی ، میری غیرت میری مرضی ، آوارہ نہیں آزاد ہوں ، کے نعرے بلند کرتا دیکھ کر فخر کرتا ہے اگر ایسی بےباکی کی کوئی گروہ خواہش رکھتا ہے تو وہ اسے اپنے گھر تک محدود رکھے سڑکوں پر اپنے جسم اور اپنی مرضی کے نعرے بلند نہ کرے یہ ملک جس مقصد کے لئے بنا تھا آج انڈیا کے مسلمانوں کا حال دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے اگر چند سو یا چند ہزار اپنی مرضی کے جسم اور ان پر اپنی مرضی کا اختیار رکھنے والی خواتین کو سر عام بے حیائی کے کارنیوال کو نہیں روکا جا رہا تو آنے والے کل کو ملک بھر میں عریانیت کی جو لہر اٹھے گی بعید نہیں کہ وہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے ، سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اپنی ذمہ داریاں اس طریق سے ادا کرے کہ روز محشر اسی کے گلے میں پھندہ نہ پڑ جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں