شکرانہ (از : افتخار احمد. جرمنی )

لنگر خانے وجود میں آ چکے شیلٹر ہومز بن گئے صحت کارڈ گھر گھر پہنچا دئے گئے انڈوں مرغیوں اور کٹوں کے بعد اب بکریاں اور بھینسیں بھی بانٹی جا چکیں روزگار ہے یا نہیں اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا معشیت اٹھے بیٹھے لمی پئے یا سو جائے پرواہ نہیں، نیو ریاست مدینہ میں بھی بھوکا مرے گا تو مقدمہ امیر ریاست پر ہی قائم ہونا ہے لہذا انسان کے بھوکے مرنے کے ذرہ برابر امکانات بھی باقی نہیں رہے ملک میں مہنگائی اور غربت کا جھوٹا پروپیگنڈہ محض اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کا شوشا ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں سچ تو یہ ہے کہ پوری قوم خوشی سے سڑکوں پر عمران خان دے نال نچنے کی خواہش کا اظہار کر رہی ہے چوکوں میں وزیر اعظم کی قد آور تصاویر پر پھول نچھاور کئے جا رہے ہیں ہندو اور سکھ ان کی پوجا پاٹھ کرنے میں مصروف ہیں کشمیری خوش کہ 72 سالوں بعد اتنی اچھی تقریر سننے کو ملی واہ کیا بات تھی ، طیب اردگان اور مہاتیر محمد کے علاوہ پورا عالم اسلام عمران خان کو اپنا رہبر تسلیم کر چکا قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پہلی بار قوم کو وعدے کا پکا راہنما نصیب ہوا، 124 دن جو کچھ دھرنے کے دوران کہا کر دکھایا سبحان اللہ لیڈر ہو تو ایسا ، جس چور کو پکڑا الٹا لٹکا دیا ، پاکستان کا پہلا وزیر اعظم جس کے پیچھے عدلیہ اور افواج پاکستان مضبوطی سے کھڑی ہیں جس کے وزراء نہ صرف صادق اور امین ہیں بلکہ جھونپڑیوں میں رہنے والے سادہ افراد ہیں جو وزیر اعظم سمیت سائیکلوں پر آتے جاتے ہیں عدل و انصاف ایسا کہ لوگ عدل جہانگیر کو بھول چکے صاف پانی اتنا فراہم ہوچکا کہ پوری قوم کو ڈبونے کے بعد بھی وافر مقدار میں بچا رہے گا عوام کو چاہیئے کہ روزانہ تہجد کے بعد دو نوافل شکرانے کے باقاعدگی سے ادا کیا کرے کہ ناشکروں کو نہ اللہ تعالی پسند کرتا ہے اور نہ ہی دنیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں