خوف و ہراس (از:افتخار احمد .جرمنی)

ہر طرف خوف ہراس، ہو کا عالم، چہرے مرجھائے رنگ اڑے ہوئے ، درگاہیں، درسگاہیں بند ، سینما گھر، شادی ہال، جوئے خانے ، مے خانے ، زنا کے اڈے ویران ، چمیاں جپھیاں دفعہ دور ، پرے ہٹ کے کھلو ، پوری دنیا نے منہ چھپا لئے بلکہ منہ چھپانے کے لئے ماسک ناپید، دنیا بھر کی سرحدیں بند، بازاروں میں چھینا جھپٹی، سائنس پانڈھے میں وڑ گئی ، سائنسدانوں کے ہاتھ کھڑے ابھی تک کوئی ملک کورونا وائرس کی ویکسین نہیں بنا سکا، عبادت گاہوں پر پابندیاں، ریسٹوران خالی ، علی الصبح لوگ اشیائے روز مرہ کی تلاش میں سرگرداں کوئی کامیاب کوئی ناکام ، چہروں پر مایوسی ، نیندیں حرام، یہ جانتے ہوئے بھی کہ موت بر حق ہے پھر بھی خوف ، آخر کیوں؟
ذرا سوچئے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ دنیا اپنی اوکات سے اتنی بڑھ گئی کہ اللہ ہی کو بھول گئی اس کی ہر تخلیق پر اپنے نام کی تختی لگانے لگی شاید خالق بھی یہی چاہتا ہے کہ انسان اپنی حثیت پہچانے، وہ تسلیم کرے وہ خود کسے کا شاہکار ہے وہ قبول کر لے کہ اس کا ہر حاصل عطا اور ہر دعوی خطا ہے تکبر خالق کو زیب دیتا ہے مخلوق کے لئے عاجزی و انکساری ہی باعث رحمت و برکت ہے قدرتی آفات انسان کو سمجھانے کے لئے ہی آتی ہیں ، غور طلب بات ہے کہ جو اللہ کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی عاری تھے آج وہ بھی اسے پکار رہے ہیں انشاء اللہ تعالی وہ رحم کرے گا اور مصیبت کی یہ گھڑیاں بھی آخرکار ٹل جائیں گی ، اللہ تعالی ہم سب کے گناہ معاف اور ہماری حفاظت فرمائے آمین ثم آ مین ۔
🤲

( حفاظتی تدابیر اختیار کریں فرمان الہی ہے کہ ۔۔۔۔اے ایمان والو اپنی جانوں کی حفاظت کرو )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں