انسداد پولیو مہم:”17تا 19فروری”(از:سید وقار نقوی)

صحت مند نئی نسل ہی کسی بھی ملک و قوم کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ مہذب دنیا میں زچہ و بچہ کی صحت پر بے حد زور دینے کے ساتھ بچے کی پیدائش کے بعد اسکی صحت مندانہ طریقے سے پرورش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے،یہی صحت مند بچے کل کو صحت مند جسم او ردماغ کے ساتھ قوموں کو ترقی و کامیابی کی منازل کیجانب لیکر بڑھتے ہیں۔ یوں تو انسان کو ہمیشہ سے ہی مختلف وبائی امراض کا سامنا رہا ہے لیکن اس نے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے بیشتر پر قابو پالیا۔ گزشتہ صدی کی بات کی جائے تو انسان نے جدید ریسرچ کی بدولت جن بیماریوں پر قابو پایا ان میں ایک نہایت خطرناک مرض پولیو کا بھی ہے جو پانچ سال تک عمر کے بچوں کو لاحق ہوتا ہے اورانہیں زندگی بھر کیلئے معذور بنا دیتا ہے تاہم بدقسمتی سے کرہ ارض پر پاکستان دنیا کے ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک پولیو کا سو فیصد خاتمہ نہیں ہوسکا۔ پولیو کے خاتمہ کیلئے اہداف کے حصول میں پاکستان نے متعدد بڑے مسائل کے باوجود قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم رواں صدی کی دوسری دہائی میں یہ مرض ایک بار پھر تیزی سے پھیلا اور بڑی تعداد میں بچے اس مرض سے متاثر ہوئے جس کیوجہ سے پاکستان کو متعدد عالمی سفری پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ 2017میں پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ نے عالمی اور حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی، صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اس مرض پر قابو پانے کیلئے پے در پے مہمات چلائی گئیں جن کے نتیجے میں سال 2018میں پولیو کے مریضوں کی تعداد محض 12 تک محدود ہو گئی تھی اور ان میں سے ایک بھی مریض صوبہ پنجاب سے نہ تھا جس سے تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان بھی پولیو کے خاتمہ کے قریب پہنچ چکا ہے تاہم 2019میں ایک بار پھر خراب صورتحال نمایاں طور پر خراب ہو گئی جس کیوجہ سے پولیو کے خاتمہ کی منزل ایک بار پھر دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں حکومت پاکستان اور انکے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب گورنمنٹ 2020میں پولیو کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے اور اسی عظیم مقصد کیلئے رواں سال پے در پے انسداد پولیو مہمات کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسی سلسلے میں پہلی انسداد پولیو مہم کل 17فروری سے شروع ہو رہی ہے جو 19فروری تک جاری رہے گی جبکہ بیس سے اکیس فروری 2020کو دو روزہ فالو اپ مہم چلائی جائے گی۔ پولیو کے اسباب پر نظر ڈالی جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیو کا مرض ایک خطرناک وائرس سے پھیلتا ہے جو بچوں میں قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے انہیں زندگی بھر کیلئے معذور بنا دیتا ہے۔ پولیو وائیرس جسم کاایک وائرل انفیکشن ہے جو پیرالائیز اور سانس لینے میں مشکل کا باعث بن سکتا ہے یہ وائرس متاثرہ انسان کے فضلے سے پانی میں چلا جاتا ہے اور اس ہی لیے ایسی جگہوں پر زیادہ دیکھنے میں ملتا ہے جہاں سیوریج کا نظام بہتر نہ ہو بدقسمتی سے پولیو کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہ ہو سکا ہے ڈاکٹر اس مرض کا شکار ہونے کے بعد اس سے اگلے نقصانات کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹریٹمنٹ دیتے ہیں جو ایک کوشش ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ پولیو کو کنٹرول کرنے کیلئے باقائدہ بار بار مہم چلائی جاتی ہے تاکہ حملہ سے پہلے اس وائرس کو روکا جاسکے پاکستان کو پولیو فری بنانے کیلئے حکومتی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر بھی ہمیں ازبر ہوچکی ہیں عوامی سہولت کیلئے پولیو کے قطروں کی با آسانی ہر گھر تک فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے مزید سہولت کیلئے محکمہ صحت کی موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی جاتی ہیں جو گھر گھر جاکر پانچ سال تک کی عمر کے چھوٹے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلاتی ہیں حکومت کی جانب سے ان تمام اقدامات کے باوجود بعض لوگ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر اپنے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے سے انکاری ہوجاتے ہیں ان کا یہ عمل معصوم بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے دو چار کرسکتا ہے۔حکومت کی جانب سے پاکستان کو پولیو فری بنانے کیلئے مسلسل سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں اور تسلسل کے ساتھ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کی مہم بھی جاری رہتی ہے تاکہ ملک پاکستان کو پولیو فری بنایا جاسکے ملک کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع گجرات میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کی مہم جاری ہے اورضلع گجرات میں بھی ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر یاسر، ہیلتھ مینجمنٹ ٹیم انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام وسائل برؤے کار لائے جارہے ہیں، اسوقت ضلع بھر کے پانچ سال تک عمر کے4لاکھ 42ہزار 301 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے موبائل ٹیموں، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، موبائل ٹیموں میں شامل زائد رضا کار گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے، فکسڈ ٹیمیں سرکاری ہسپتالوں، ٹرانزٹ ٹیمیں شاہراہوں پر تعینات ہونگی اوراس اہم قومی فریضہ کی انجام دہی کریں گے تاکہ ملک سے پولیو کے خاتمہ کے خواب کو عملی تعبیر دی جاسکے ہیلتھ مینجمنٹ ٹیم کا عزم ہے کہ ضلع گجرات گذشتہ کئی سالوں کی طرح پولیو فری رہے اور یہ ضلع، یہ صوبہ اور پاک وطن پولیو جیسے خطرناک مرض کی لعنت سے پاک اور ہماری آئندہ نسلیں پولیو کی وجہ سے معذوری سے محفو ظ رہ سکیں۔ پولیو کے خاتمہ کی منزل کے استے میں کئی مشکلات ہیں تاہم اہداف کے حصول کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں