پاکستانی سیاست ملکی حدود کے اندر رہنی چایئے:قمرزمان کائرہ

اسلام آباد(پ ر)علامہّ اقبا ل کونسل اسلام آباد کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مقررّین نے واضح طورپر کہا کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں ملک کے اندر سیاست کریں مگر ملک سے باہر سیاسی سرگرمیاں اور دفاتر بند کردیں کیونکہ یہ ایک گندا اور خطر ناک کھیل ہے ، اس سے اوورسیز پاکستانی تقسیم ہو تے ہیں وہ متحد رہ کر وطنِ عزیز کیلئے بہتر خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔ مقررّین نے کہا آئین کا احترام نہ کیا گیا تو ملک میں سماجی تحریک چلے گی۔ مقررّین نے کہا کہ ملک کو زیادہ نقصان آمریتوں کے دور میں پہنچا، سولین بالادستی کیلئے سیا سی قیادت میں بے داغ کردار قابلیت اور جرا¿ت کی ضرور ت ہے ۔سیمینار میں معروف ، سفارتکاروں ، سیاسی راہنماﺅں ،صاحبانِ علم ودانش، سینئر صحافیوں اور سابق بیوروکریٹوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سینیئر راہنما قمرزمان کائرہ نے کہاکہ آئین کا احترام نہ کیا گیا تو پھر ملک میں ایک سماجی تحریک چلے گی جو انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست ملکی حدود کے اندر رہنی چایئے،اور ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔(ر)جسٹس علی نواز چوہان نے کہاکہ ریاست اور شہریوں کا رشتہ اعتماد پر قائم رہتا ہے یہ رشتہ کمزور ہو جائے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے راہنما ڈاکٹر نثار احمد چیمہ ایم این اے نے کہا کہڈکٹیٹر شپ کی دور میں ملک میں بڑے سانحے رونما ہوئے جنمیں سقوطِ مشرقی پاکستان ، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ، افغان بھائیوں سے بے وفائی اور کارگل کا مس ایڈوینچر بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں میں کردار اور قابلیّت کا معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کی سیاسی پارٹیوں نے بیرون ملک جو اپنی شاخیں اور دفاتر کھول رکھے ہیں یہ ایک گندا کھیل ہے یہ ملک کیلئے نقصان دہ ہے اسے فوراً بند ہونا چائیے۔امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اعزاز چوہدری نے کہاکہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اُس ملک کی سیا ست میں حصّہ لیں اور وہاں کی حکومت میں اثرورسوخ حاصل کریں ۔اس سے وہ اپنے آبائی وطن کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔سابق آئی جی اور علامہ اقبال کونسل کے چیئرمین ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ سویلین بالادستی کیلئے سیاسی قیادت میں اعلیٰ کردار ، قابلیّت اور جرا¿ت کی ضرورت ہے جو اِسوقت ناپید ہے ۔سیاسی قیادت کو اسطرف تو جہ دینے کی ضرورت ہے۔معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ اسوقت ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاءہے اور صحافیوں کو سخت ترین سنسر شپ کا سامنا ہے۔معروف صحافی حافظ طاہر خلیل نے کہاکہ سیا سی جماعتیںعوام کی توقعات پر پوری نہیں اتریں انہیں چایئے کہ وہ اپنی کار کردگی بہتر بنائیں۔سابق وفاقی سیکرٹری سیرت اصغرنے کہا کہ ڈائیلاگ صرف مقننّہ ، انتطامیہ اور عدلیہ کے درمیان ہونا چایئے۔ جنرل (ر) طاہرمحمود قاضی نے کہا کہ اگر سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی بہتر ہوجائے تو کوئی غیر آئینی ادارہ کبھی مداخلت نہیں کرسکے گا۔ سابق سفیر جاوید حفیظ ، معروف دانشور خورشید ندیم اورکالم نگار عمار مسعود نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں