حکومت نے 14 ماہ میں چوتھا آئی جی پنجاب بھی تبدیل کردیا

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت نے 14 ماہ میں چوتھا انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بھی تبدیل کردیا۔

گزشتہ دو روز سے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار میں مشاورت جاری تھی جس کے بعد بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے اور موجودہ حکومت نے 14 ماہ کے قلیل عرصے میں 4 آئی جیز کا تبادلہ کیا ہے۔

نگران حکومت نے کیپٹن (ر) عارف نواز کو تبدیل کر کے کلیم امام کو آئی جی تعنیات کیا تھا، کلیم امام کے بعد محمد طاہر کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ رہ سکے۔

اس کے بعد ان کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو لایا گیا اور پھر قرعہ عارف نواز خان کے نام کا نکلا لیکن اسی پر بس نہ ہوئی اور انھیں بھی ہٹا کر اب شعیب دستگیر کو نیا آئی جی پنجاب لگایا گیا ہے۔

نئے آئی جی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جبکہ عارف نواز کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شعیب دستگیر کون ہیں؟

شعیب دستگیر اس سے پہلے ایم ڈی نیشنل پولیس فاؤنڈیشن تھے، وہ آئی جی آزاد کشمیر بھی رہ چکے ہیں اور یو این مشن میں بھی کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔

شعیب دستگیر کچھ عرصہ ایس پی ایڈمن لاہور بھی رہے لیکن انہوں نے فیلڈ افسر کے طور پر زیادہ دیر کام نہیں کیا اور ملازمت کا بڑا حصہ سینٹرل پولیس آفس میں گزارا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں