سعودی خاتون نے فارمولا کار ریس میں حصہ لے کر تاریخ رقم کردی

سعودی عرب میں ہونے والی فارمولا کار ریس میں پہلی بار خاتون ڈرائیور ریماجفالی نے شرکت کرکے تاریخ رقم کردی۔

ریما جفالی سعودی عرب میں کار ریس میں حصہ لینے والی پہلی خاتون ہیں، وہ اس سے قبل دبئی ،برطانیہ اور بھارت میں ہونے والی فارمولا کار ریس میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔

دبئی میں ہونے والی کار ریس میں وہ لائسنس یافتہ پہلی سعودی خاتون کار ریسر کی حیثیت سے شریک تھیں۔
سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل گئی

یاد رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال 24 جون 2018 کو خواتین کوگاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ اس سے قبل سعودی عرب دنیا کا واحد ملک تھا جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ریاض میں ہونے والی کار ریس میں 27 سالہ ریما جفالی نے چیمپئن شپ کے پہلے راؤنڈ میں اپنا لیپ ایک منٹ 39 سیکنڈز میں مکمل کیا۔

جدہ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ ریما جفالی کا کہنا ہے کہ ‘گاڑی چلانا میرے بچپن کا خواب تھا اور چھوٹی عمر میں بھی گڑیوں سے کھیلنے کے بجائے گاڑیوں سے کھیلنا پسند کرتی تھی، گاڑیوں سے متعلق خبریں پڑھنا ، نئے آنے والے ماڈلز کے بارے میں جاننا ہمیشہ سے میرا شوق رہا ہے’۔

سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے پر ریما کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کے لیے انتہائی اہم موقع تھا۔ مجھے امید تھی ایک دن آئے گا جب سعودی عرب میں خواتین گاڑی چلاسکیں گی۔

ریما جفالی کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی بیرون ملک گاڑی چلاتی تھیں تو وہ سوچتی تھیں کہ اپنے ملک میں گاڑی چلاکر کتنا اچھا لگے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب میں مزید خواتین بھی موٹر اسپورٹس میں حصہ لیں گی۔
فوٹو،ٹوئٹر

سعودی عرب میں کھیلوں کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے اسے مملکت کی تاریخ میں ایک اہم لمحہ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں معاشی اور سماجی اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں خواتین کو بہت سے شعبوں میں با اختیار بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں