سیاسی لنگر خانہ (از: کاشف نعیم بی اے. سیالکوٹ )

آج سلیکٹڈ وزیراعظم عمران نیازی نے اسلام آباد میں ایک مختصر سی تقریب میں ایک مرغی انڈوں اور کٹوں جیسی تقریب کا افتتاح کیا جس کا مقصد بھی غرباء کا مفاد تھا تقریب میں چند داڑھی رکھے افراد موجود تھے جن کے سامنے میز پر ایک پلیٹ میں تھوڑا سا سالن اور روٹی کے چند ٹکڑے پڑے دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کا مذاق اڑا رہے تھے وزیراعظم نے اس سیاسی لنگر خانے کی تقریب میں کئی مرتبہ ریاست مدینہ کا نام لیا اور جب تقریب کے اختتام پر دعا کرائی گئی تو نیو ریاست مدینہ کے معمار سمیت دیگر افراد دوران دعا ادھر سے ادھر اس طرح دیکھنے میں مصروف تھے جیسے کسی قیمتی گواچے لونگ کو تلاش کر رہے ہوں پوری تقریب میں زیادہ بحث تاجروں اور ملک میں ڈوبتی معشیعت پر کی گئی شرکاء نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ دنیا کے نامور معشیعت دانوں کی لکھی ہوئی کتابیں اپنے معیشت دانوں کو پڑھائی جائیں تاکہ انہیں معشیعت کی الف ب کا اندازہ ہو سکے تقریب میں موجود جو لوگ بھی اس سیاسی لنگر خانے کے کھانے سے مستفید ہوئے ان میں نہ تو کوئی خاتون تھی نہ بچہ نہ کوئی غریب شخص بلکہ وزیراعظم سمیت سبھی تنو مند افراد شامل تھے ایک شاعر یاد آ گئے جنہوں نے تاج محل کی تعمیر پر یہ لا فانی شعر لکھا تھا کہ!
اک شہنشاہ نے محبت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
کچھ ایسی ہی فاش غلطی وزیراعظم نے انڈوں مرغیوں اور کٹوں کی بندر بانٹ کے وقت کی تھی کہ بجائے اس تقریب کو کسی زرعی اور پسماندہ علاقے میں منقعد کرتے جس میں دیہاتی پس منظر نمایاں ہوتا ایک ائر کنڈیشن کنویشن سینٹر میں منعقد کر دی جن کے شرکاہ میں میک اپ زدہ خوشحال گھرانوں کی خواتین اور عمران خان دے جلسے چ نچن والا برگر فیملی کا طبقہ نمایاں تھا رہی سہی کسر سلیکٹڈ وزیراعظم کی عجیب و غریب تقریر نے پوری کر دی جس میں خواتین کے سامنے بتایا گیا کہ وہ مرغیوں کو ٹیکے بھی لگائیں گے غربت مکاو کی اس تحریک کا جو برا حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے نہیں معلوم کہ یہ شخص کسی سیانے سے مشورہ نہیں کرتا یا کسی کی مانتا نہیں یا خود ہی اپنے آپ کو کل جہان کا سیانا سمجھتا ہے جس کی وجہ سے ہر کام بننے سے قبل ہی بگڑ چکا ہوتا ہے غریبوں کے لئے لنگر خانے کوئی نئی چیز نہیں زمانہ قدیم سے ان کا رواج ہے بڑے بڑے درباروں میں مندروں اور گردواروں میں یہ چوبیس گھنٹے مفت کھانا فراہم کرتے ہیں پاکستان کے امیر افراد بڑے شہروں میں جن میں ریاض ملک شامل ہیں روزانہ ہزاروں افراد کے مفت کھانے کا اہتمام کرتے ہیں کچھ لوگ ہسپتالوں میں مفت کھانا فراہم کر کے اپنے اللہ کو خوش اور دل کو مطمئن کرتے ہیں جن کا نام بھی نہیں نظر نہیں آتا اگر حکومت غریبوں کی غربت دور کرنے میں مخلص ہے تو ہر گھر کے کسی ایک فرد کی بمطابق وعدہ نوکری فراہم کرے چور پکڑنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ڈوبتی معشیعت کو درست کرنے کے اقدامات کرے جس تیزی سے غریب عوام کی کمر ٹوٹ رہی ہے پورے ملک کا خزانہ بھی لنگر خانوں میں جھونک دیا جائے تو پیٹ کا دوزخ نہیں بھرےگا مانگ مانگ اورمانگ کر ملکوں کے حالات درست نہیں ہوتے کام کرنے سے ہوتے ہیں سوا سال ہونے کو ہے اب تقریروں کے بجائے خود بھی کام کیجئے اور بےکاروں کو بھی کام دلوایئے یہ آپ کی ذمہ داری ہے فقیر پیدا کرنے کے بجائے مزدور پیدا کیجئے فی الحال آپ مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں اس تاثر یا حقیقت کو دور کرنے کے لئے اپنے آپ کو درست کرنا پڑے گا وگرنہ تاریخ کا مطالعہ کر لیجئے جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو وہ طاقتور سے طاقتور حکمران کو بھی گھر واپس بھجواتے دیر نہیں کرتی لہذا لنگر خانوں کی بنیادیں رکھنے کے بجائے ان لنگوروں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو وزیروں کے نام پر ملکی خزانے پر بوجھ بنے بیٹھے ہیں اگر آپ نے اور آپ کی نالائق ٹیم نے کوئی ایک بھی ڈھنگ کا کام کیا ہوتا تو آج مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا خوف آپ کی نیندیں حرام نہ کر چکا ہوتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں