شوہر کو دوست سمجھا یہی آپ کی غلطی تھی

ایک بات ذہن میں رکھئیے آپ کی زندگی ٹی وی سیریل، فلموں یا ڈائجسٹ کی کوئی رومانوی کہانی نہیں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس میں آپ زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں ۔ شادی کے بعد شوہر سے کچھ بھی ڈسکس کرنا چاہیں تو ضرور کریں ۔

لیکن اس میں بھی یہ احتیاط کیجئیے کہ کچھ بھی ڈسکس کرنے اور سب کچھ ڈسکس کر لینے میں بہت فرق ہے۔ جس طرح کسی بھی عام انسان کو دوست اور پھر سب سے خاص دوست بننے میں کچھ وقت لگتا ہے تو شوہر کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے۔ شوہر سے محبت کیجئیے ، تمام حقوق پورے کرتے ہوئے خوش رکھنے کی کوشش بھی ضرور کیجئیے کہ یہ سب آپ کیلئیے لازم ہے مگر آپکے ساتھ اُنکی بہنوں کا رویہ کیا ہے والدہ کیسا سلوک کرتی ہیں وغیرہ وغیرہ یہ تمام باتیں اگر آپ اوائل روز میں ہی انکے سامنے ہر وقت اپنے شدید ردِّ عمل کیساتھ پیش کرنا شروع کریں گی تو آپکی توقع کے خلاف کچھ بعید نہیں کہ وہ آپ سے ہی متنفر ہونے لگیں ۔
خیال رہے کہ مرد اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے خلاف کچھ سُننا پسند نہیں کرتا اور خاص طور پر بلکل شروع میں جب ابھی خود آپکی انڈرسٹینڈنگ نہ ہوئی ہو ۔ ایسے میں شادی کے بعد خصوصاً شروع کے کچھ عرصے کی خاموشی لڑکیوں کو بہت ساری مشکلات سے بچا لیتی ہے ۔
اور پھر یہ غلطی بھی کبھی نہ کریں کہ شوہر پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے اُنہیں اپنے میکے والوں کی تمام اچھی بری باتیں بتانے لگیں ، ایسا کرنے سے آپ خود اپنی ہی عزت گھٹانے کا سبب بنتی ہیں بعد میں کسی بھی بدمزگی کے وقت اگر آپکو شوہر سے اُنہی باتوں کے تلخ طعنے ملیں تو اُنکی بد لحاظی پر رونے سے پہلے اپنی جلد بازی پر روئیں کہ آپ نے ایسا موقع دیا ہی کیوں؟

یاد رکھئیے ، شادی کے بعد عموماً وہی لڑکیاں سُکھی رہتی ہیں جو سسرال کی باتیں سسرال اور میکے کے معاملات میکے تک محدود رکھنے کی عادی ہوں ۔

اگر آپ بادشاہ کی بلی بن کر دونوں گھرانوں کی باتیں یہاں وہاں کرتی رہیں گی تو خود نہ یہاں کی رہیں گی نہ وہاں کی ۔

اب بھی بہت وقت نہیں گزرا ، اگر گھر میں سکون چاہتی ہیں اور زندگی بدلنا چاہتی ہیں تو پہلے خود کو تھوڑا سا بدلیں یہ سوچ کر ہی سہی کہ آپ کی زندگی کیساتھ اب کئی ایسی زندگیاں جُڑی ہوئی ہیں جو آپکی جذباتیت کی وجہ سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں…..!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں