زلزلہ آئے تو کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟

لاہور(ویب ڈیسک) میر پور آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت تقریباً 5.8 بتائی گئی ہے، اس زلزلے کی وجہ سے پاکستان سمیت آزاد کشمیر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں اور دفاتروں سے نکل کر کھلے مقامات کی طرف نکل گئے۔ اس دوران 5 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

زلزلہ آتے ہی پہلا خیال کسی محفوظ جگہ پر پناہ لینے کا آتا لیکن کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملتا کہ جلدی سے آپ کسی کھلی جگہ پر چلے جائیں، یہ قدرتی آفت ہے اس کوئی سائنسی آلہ ایجاد نہیں ہوا جو پشین گوئی کر سکے اس لیے ہر کسی کو زلزلے آنے پر کچھ کام ایسے ہیں جس سے بچاؤ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب بھی زلزلہ آئے تو سب سے پہلے گیس، بجلی اور پانی کی لائنیں بند کرنے کی فوری کوشش کریں کیونکہ اس کے پھٹنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے، اسی لیے زلزلہ آئے افراتفری کی بجائے پر سکون رہیں اور بھاگنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے پر اوپر سے گرنے والی چیزیں آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوری بعد دیوار کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہو جائیں یا پھر بڑی میز یا پلنگ وغیرہ کے نیچے پہنچ جائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ چیزیں گرنے سے آپ محفوظ رہ سکتے ہیں۔ زلزلے کے دوران ماچس کی تیلی، لائٹر یا کوئی بھی ایسی چیز جس سے شعلہ برآمد ہو ہرگز استعمال نہ کریں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ دوران زلزلہ اگر آپ گاڑی میں سفر کر رہے ہیں تو فوری طور پر رک جائیں اور کوشش کریں کہ گاڑی کے اندر ہی رہیں جب تک کہ زلزلہ رک نہ جائے۔

ماہرین کے مطابق زلزلے آنے کی صورت میں سیڑھیوں سے دور رہیں جبکہ لفٹ ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ وہ کسی بھی وقت جام ہو سکتی ہیں۔ آپ قریب کوئی میز نہیں تو دیوار کے ساتھ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر گردن کو دونوں بازو لپیٹ کر محفوظ بنانے کی کوشش کریں۔ اگر بیڈ یا پلنگ موجود ہے تو سر کو سرہانے یا تکیے میں ڈھانپ لیں اور خود کو سمیٹ لیں تب تک اسی حالت میں رہیں جب تک جھٹکے رک نہ جائیں۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ کھڑکیوں اور شیشے کی کسی بھی چیز سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ بڑی الیکٹرونکس اشیا، الماریوں اور لٹکی ہوئی چیزوں سے دور ہٹ جائیں۔ اگر زلزلے کے وقت باہر ہیں تو کوشش کریں کہ وہاں چلے جائیں جہاں عمارت، بجلی تاریں، درخت یا پھر کوئی دوسری رکاوٹ والی اشیا نہ ہوں۔ پلوں، انڈر، اووپاسز، ہورڈنگز وغیرہ سے دور رہیں۔ اگر آپ گاڑی میں ہیں اور بجلی کے تار گاڑی پر گر گئے ہیں تو قطعاً باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں جب تک کوئی تربیت یافتہ شخص وہاں نہیں پہنچ جاتا

زلزلے رُکنے کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ جب جھٹکے بند ہو جائیں تو ارد گرد کا جائزہ لے کر اور ہر طرف دیکھ کر محفوظ راستہ ڈھونڈیں، اگر آپ پھنسے ہوئے ہیں تو حرکت نہ کریں کیونکہ اس طرح مزید پھنس سکتے ہیں، اگر آپ کے پاس موبائل ہے تو مدد کے لیے کالز کریں، اگر بات نہیں ہو پاتی تو میسج کریں۔

ماہرین کے مطابق ذہن میں رکھیں کہ زلزلہ گزر جانے کے بعد بھی آفٹرشاکس کا خدشہ رہتا ہے اس کے لیے بھی تیار رہیں۔ اگر عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور بجلی کا مین سوئچ آن ہے تو اسے فوری طور پر بند کریں۔ اسی طرح گیس بھی بند کر دیں۔ اگر دیواروں کو نقصان پہنچا ہے تو ان سے دور رہیں آفٹرشاکس کی صورت میں گر سکتی ہیں۔

ضروری ہے کہ ہر گھر میں فرسٹ ایڈ بکس رکھا جائے اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی حاصل کی جائے۔ سب گھر والوں اور بچوں کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تربیت دلوائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں