ایک گھر ایک پودا

احولیاتی آلودگی اور درجہ حرارت میں نمایاں طور پر تبدیلی لانے کے لئے مختصر یا طویل رقبے پر باغبانی کرنا بہترین حل ہے۔پاکستان میں سرکاری طور پر سبزہ اگانے کی تحریک شروع کی گئی تاکہ گرم موسم سے نبٹنے کے لئے تیاری کی جائے ۔اب خواتین کی ذمہ داریوں میں قدرے اضافہ بھی ہو گیا ہے ۔خواہ وہ اپارٹمنٹ میں رہتی ہوں یا صحن والے مختصر گھر میں یا پھر وسیع تر بنگلے میں ان کی رہائش ہو۔
وہ کمر کس لیں اور چھوٹے بڑے پودے اور درخت اپنے قریب وجوار میں لگائیں تاکہ ماحول صحت مند رہے ،بجلی کی تنصیبات کے منفی اثرات سے نجات ملے،فضاء صاف وشفاف رہے ،فضاء میں آکسیجن اور ہریالی بڑھے۔ظاہر ہے کہ فوری طور پر اس کے نتائج ظاہر نہیں ہوں گے تاہم رفتہ رفتہ اس کے مثبت اثرات محسوس کئے جا سکیں گے۔

پھولوں کی رنگا رنگی اور سبزے کی ہریالی کے لئے خواہ آپ ایک پودا بھی لگالیں اس سے بھی گھروں کی کثافت میں نمایاں کمی آسکے گی۔

ایک درخت یا ایک ایک پودا ہر پاکستانی لگائے تو ملک بھر میں 200ملین افراد کی کا شتکاری ماحول بدل کے رکھ سکتی ہے۔
چند فلیٹوں یا گھروں کے فٹ پاتھوں پر کنکریٹ یا پتھر یلافرش نہیں بنا ہوتا صرف ایک آدھ درخت لگاکے جگہ چھوڑ دی جاتی ہے آپ گھر کے بجٹ سے تھوڑی سی کفایت کرکے اس جگہ کیاریاں بنواسکتی ہیں جہاں ممکن ہوتو قدیم درخت کی ایک بار پھر آبیاری کرلیں یا ممکن نہ ہوتو اسے جڑ سے اکھاڑ کر مختصر قامت کے پودے لگوالیں ۔
آپ کے گھر یا فلیٹ کی دہلیز سنور جائے گی۔
کیمیائی اثرات اور محلول سے پاک سبزیوں کے باغ
تندرست اورمحفوظ ترین غذا کے حصول کے لئے کیمیائی محلول سے پاک سبزیاں کا شت کی جاسکتی ہیں مثلا گو بھی ،شاخ گوبھی،بینگن،سلاد،بروکولی،ہرادھنیا ،پودینہ،ہری مرچیں،پالک،مولی،Bok Choy،چقندر،شلجم،ٹماٹر ،گاجر آلو ،کریلے ،شملہ مرچ اور لوبئے۔
ماہرانہ نگہداشت اورمشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے تو یہ سبزیاں اگ آتی ہیں تاہم ان پر کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔اس طرح آپ کچن کا بجٹ منوازن کرلیں گی۔
جڑی بوٹیاں اورمصالحہ جات
آپ متنوع انداز سے کا شتکاری کر سکتی ہیں مثلاً زیرہ ،روز میری ،لیمن بام،اور یگا نو ،پودینہ ،تھائم، دریائی چنسر یا،Watercress،اجوائن جنگلی اور لہسن پوداجسے انگریزی میں Chivesکہتے ہیں،کاشت کرکے بھی کچن کا بجٹ توازن اختیار کر سکتا ہے۔

گلوں میں رنگ بھرتے ماحول کی رومان پروری
ویسے دیکھا گیا ہے کہ خواتین پھلوں کی کا شتکاری کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں،یہ پہلو بھی صحت مند طرز فکر کی عکاسی کرتا ہے۔پھل کھانے بھی درست اگانے بھی دلچسپ مرحلے طے کرکے خوشی دے سکتے ہیں ۔موسمی پھولوں کی کاشت کاری نہایت سرورکن تجربہ ہوا کرتا ہے ۔خواتین رات کی رانی،گلاب ،چنبل ،موتیا ،گیندا اور سورج مکھی کے علاوہ دن کے راجہ کی بھی بڑی قدر کرتی ہیں اور جہاں موقع ملے ان میں سے کوئی نہ کوئی پودا گھر میں ضرور رکھتی ہیں ۔
پھولوں کا یہ باغیچہ فرحت کا احساس دیتا ہے ۔طبیعت میں سر شاری اورمزاج میں نرمی وخوش گفتاری متاثر کرتی ہے۔کچھ اور پھول مثلاً Corncockle Larkspur Flax California PoppiesاورGodetiaبھی آپ کے گھر کو شاندار منظر عطا کر سکتے ہیں۔
غرضیکہ باغبانی ایک کثیر الجہت اور ہمہ صفتی مشغلہ ہے جس کے مقاصد اور فوائد بھی بے شمار ہیں مثلاً تلسی کا پودا کیڑے مکوڑوں اور حشرات کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایلو ویرا جہاں جلد کی نکھار کے لئے استعمال ہوتا ہے وہیں کچن میں کام کرتے ہوئے آئل یا گرم پانی کا چھینٹا پڑجانے سے جلد جھلسنے اور داغدار ہونے سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ آبلے پڑے سے محفوظ رکھتا ہے لہٰذا آج ہی اپنے حصے کی باغبانی کرتی چلئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں