بالوں کی خشکی اور علاج

اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنے مقصد ،کار کردگی،موزونیت اور حسن کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے اور تمام مخلوقات میں انسان کے لئے کہا گیا ہے کہ اسے سب سے اچھی تقویم پر بنایا گیا ہے اور اسی وجہ سے اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔اگر ہم انسانی جسم کے ظاہری خدوخال کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ہر چیز اور حصہ نہ صرف اپنے کام کے لحاظ سے نہایت مہارت سے بنایا گیا ہے بلکہ اس کی بناوٹ کے ساتھ ساتھ جس مقام پر اسے رکھاگیا ہے وہی اس کی کار کردگی اور حسن کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین ہے۔
دنیا کا ماہر سے ماہر مصور بھی اس ترتیب میں فرق لا کر انسانی جسم کے حسن میں اضافہ نہیں کر سکتا۔یعنی وہ آنکھ کسی اور جگہ لے جانا چاہے اور بال اور ناخن کسی جدا مقام پر رکھنا چاہے تو صورت بگڑ سکتی ہے ،بن نہیں سکتی۔

پھر ان حصوں کا پوری تندرستی کیساتھ موجود ہونا اورکام کرتے رہنا،زندگی کے مقاصد پورے کرتا ہے اور دیدہ زیبی اور خوبصورتی قائم رکھتاہے۔

جسم کے ان ظاہری حصوں میں سر کے بال بھی جسمانی حسن میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں اور ایک نہایت قیمتی چیز سمجھتے جاتے ہیں۔ان کی اصل قیمت کا اندازہ اس وقت ہوتاہے جبکہ بادل چھٹ کر چاند نظر آنے لگے یا سیاہ بادلوں میں سفید بجلی چمکناشروع ہو جائے۔اس وقت انسان چاہتا ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کر دے تاکہ اس کے بال قائم رہیں۔چونکہ جو بال گر جائے یا سفید ہو جائے اسے دوبارہ پیدا کرنا یا قدرتی طور پر سیاہ کرنا سائنس کی تمام ترقی کے باوجود ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

بالوں میں بہت سے امراض پیدا ہوتے ہیں۔کبھی وہ باریک وپتلے ہو جاتے ہیں۔کبھی خشک ہو کر پھٹنے لگتے ہیں اور دو منہ ہو جاتے ہیں۔کبھی خشک ہو کر پھٹنے لگتے ہیں اور دومنہ ہو جاتے ہیں ۔کبھی رنگت بھدی وپھیکی پڑجاتی ہے یا با لکل سفیدہو جاتے ہیں اور کبھی گرنے لگتے ہیں ۔سر کی جلد میں بھی بہت سی بیماریاں ہو جاتی ہیں مثلاً پھوڑے،پھنسیاں ،خارش ،داداور بفا(ڈینڈرف)وغیرہ۔

بالوں کو تندرست چمکدار ،گھنے اور سیاہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں جسم سے پوری غذا مل رہی ہو۔دوسرے انکا ماحول صاف ستھرا اور بیماریوں سے پاک ہو۔ایک ایسا شخص جس کے جسم میں خون کی کمی ہو یا اس کے بالوں کو ضروری غذا ئی اجزاء فراہم نہ ہو رہے ہوں ،کبھی بھی خوبصورت بالوں کا مالک نہیں ہو سکتا۔خاص طور پر غذا میں حیاتین الف اور”و“نیز کیلشیم بہت ضروری ہیں۔
بالوں کا ماحول عام طور پر اس کی جلد کے امراض خراب کرتے ہیں اور ان میں سب سے عام اور سر فہرست بفایا ڈینڈرف ہے۔اسے عربی میں ”حزازوابریہ“بھی کہتے ہیں۔لاطینی نام”سی بوریا “ہے عام بول چال میں بھوسی یا خشکی کہا جاتاہے۔
بفادراصل جلد سے رسنے والی ایک چکنی رطوبت ہے جو جلد کی سطح پر جمع ہو کر جسم کی گرمی سے خشک ہو ہو کر بھوسی کی شکل میں جھڑتی رہی ہے تمام جلد میں عام طور پر اور سر کی جلد میں خاص طور پر ایسے غدود پائے جاتے ہیں جو ایک طرح کا تیل یا چکنی رطوبت بناتے رہتے ہیں۔
تاکہ جلد خشک نہ ہو اور اس میں موسم کی شدت اور کام کاج کی رگڑ کی وجہ سے خراش پیدا نہ ہو۔بعض حالات میں یہی چکنی رطوبت زیادہ بہنے لگتی ہے۔ایسا عام طور پر سر کی جلد میں ہوتا ہے مگر بعض لوگوں میں دیکھا گیا ہے کہ پیشانی،آنکھوں کے پپوٹوں ،چہرے اور کبھی کبھی پورے جسم پر یہ خشکی پیدا ہو جاتی ہے جو خاصی پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہے ۔دھونے سے صاف ہو جاتی ہے لیکن چونکہ اس کا رساؤ کم نہیں ہوتا اس لئے دوبارہ جمع ہو جاتی ہے۔

چکنی رطوبت کے رساؤ میں اضافہ کا سبب عام طور پر غیر متوازن غذا کا استعمال ہے۔یہ مرض ان لوگوں میں زیادہ پایا جاتاہے جو مرغن اور تلی ہوئی چیزوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں یا جن کی غذا میں گرم مصالحے اورمرچوں کی بھر مار ہوتی ہے یا وہ لوگ جو سبزیوں کو ادنی غذا سمجھتے ہیں اور گوشت ،ان کے خیال میں قوت وطاقت کا خزانہ ہے۔
بالوں کو اگر صاف نہ رکھا جائے تو میل کچیل غدود میں سوزش پیدا کرکے رطوبت کا رساؤ بڑھا دیتاہے۔

بالوں کو صابن یا شیمپو سے زیادہ دھونے سے بھی جلدی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور بال گرنے لگتے ہیں۔کیونکہ بالوں کی کٹھاس دھل جاتی ہے جبکہ یہی کٹھا ماحول بالوں کا قدرتی ماحول ہے ۔جس میں جراثیم کی پرورش نہیں ہو پاتی۔یونانی اطباء کا بھی زمانہ قدیم سے یہی نظر یہ ہے کہ بالوں کی پرورش ایک ترش مادے سواد سے ہوتی ہے اس کی وجہ سے ان کا ماحول بھی ترش ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ترش چیزوں سے بالوں کو دھونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ مثلاً آملہ،ریٹھے،سیکا کائی،ہڑ،بیری کے پتے،دہی وغیرہ ،بالوں اور خصوصاً ان کی جڑوں میں دھوپ لگنا بھی ضروری ہے چونکہ دھوپ ایک تو جراثیم کو ہلاک کر تی ہے ،دوسرے حیاتین”و“کے ہضم اورجذب ہونے میں مددگار ہوتی ہے ۔اسی لئے سردھوکر بالوں کو دھوپ میں خشک کرنا بہت اچھا سمجھتا جاتاہے۔

بفااز خود کوئی نقصان دہ چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ مرض ایک شخص سے دوسرے کو لگتا ہے۔اس میں کسی طرح کے جراثیم بھی نہیں پائے جاتے۔مگر یہ سر کی جلد پر جم کر ایک تہہ بنا دیتاہے جس سے جلد کے باریک باریک مسامات اور بالوں کی جڑیں ڈھک جاتی ہیں اور وہاں دھوپ اور تازہ ہوا کا گزر مشکل ہوجاتاہے۔دوسرے جلد کے باریک مسامات سے جو بخارات خارج ہوتے ہیں وہ بھی رک جاتے ہیں ۔
اس چکنی تہ میں میل کچیل جمع ہونے لگتا ہے جس سے آخر کار بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں ۔وہ پہلے کمزور ،باریک ہو جاتے ہیں اور پھر گرنے لگتے ہیں۔
یہ پتہ لگانا کہ بالوں میں بفا ہے یا نہیں مشکل نہیں ہوتا۔بالوں کو ہٹا کر سر کی جلد پر دیکھا جائے تو سفید تہہ جمی ہوئی نظر آتی ہے ۔جو کنگھی یا ناخن سے کھر چنے سے آسانی کے ساتھ نکل آتی ہے۔گہرے رنگ کی کسی چیز پر اگر کنگھی کی جائے تو یہ سفید بھوسی جھڑ کے اس پر جمع ہوجاتی ہے ۔
اگر بہت زیادہ ہوتو بالوں میں اور بعض اوقات کا لرو شانوں پر بھی نظر آجاتی ہے ۔سر میں بے چینی اور کبھی کبھی خارش ہوتی رہتی ہے۔ان سب چیزوں سے کوفت اور ندامت کا احساس رہتاہے۔
بفا کے علاج کے لئے ایک باقاعدہ پروگرام بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کی ابتداغذا کو متوازن بنانے اور ہاضمہ درست کرنے سے ہونی چاہیے۔غذا میں پتوں والی سبزیاں،بند گوبھی،گاجر ،چقندر اور تازہ پھل بڑھادینے چاہئیں دودھ ،لسی اور انڈے کی زردی بھی دی جاسکتی ہے۔
سردیوں کے موسم میں روغن جگر ماہی(کارڈلیورآئل)استعمال کرایا جا سکتاہے۔اگر خون کی زیادہ کمی محسوس ہورہی ہوتو صبح صبح دوالمسک معتدل سادہ نصف چمچہ(چائے والا)پانی کے ہمراہ لی جائے اور کھانے کے بعد شربت فولادایک چمچہ(چائے والا)پانی میں ملا کر پیاجائے۔سوتے وقت صافی یا کوئی اور مصفی شربت دو چمچے پانی میں ملا کر پیا جائے۔شربت فولاد اگر کسی وجہ سے لینا مناسب نہ ہوتو قرض سلاجیت ایک ایک عدد پانی کے ہمراہ ہر دو وقت کھانے کے بعد کھائی جائے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ بالوں کی صفائی پر توجہ دینی چاہیے۔انہیں روزانہ سادہ پانی سے اور ہفتے میں دوتین بار گلیسرین سوپ یا شیمپو سے دھونا چاہیے۔اگر جلد چکنی اور روغنی ہوتو بیسن سے دھونا مفید ہوتاہے۔مگر سر دھونے کے عمل میں ترشیاں ضرور شامل ہونی چاہئیں۔ورنہ کم سے کم یہ احتیاط کی جائے کو خواہ کسی بھی چیز سے دھویا جائے آخر میں ایک عدد لیموں یا دو چمچے سر کہ خالص،ایک مگ پانی میں ملا کر اس پانی سے سردھولیا جائے اور پھر سادے پانی سے بال صاف کرلئے جائیں۔
اس طرح بالوں کی کھٹاس یا کھٹا ماحول لوٹ آتاہے جس میں جراثیم پر ورش نہیں پا سکتے اور بال چمکدار اور ملائم رہتے ہیں۔بالوں کو چقندر یا خطمی کے پانی سے دھونے کا مشورہ بھی دیا جا تا ہے ۔اس کے لئے چقندر100گرام کی مقدار
میں لیکر تراش لئے جائیں اور ڈیڑھ مگ پانی میں جوش دیکر اورمسل کر چھان لیا جائے اور اس پانی سے بالوں کو دھویا جائے۔اس سے سر کی خشکی رفع ہو نے کے ساتھ ساتھ بال مضبوط ہو تے ہیں ۔
اگر خشکی بہت زیادہ ہو ،حتی کہ بال پھٹ کر ان پر دو منہ بن رہے ہوں تو پھر 250گرام خطمی کی،(جسے ریشہ خطمی بھی کہا جاتاہے)ڈیڑھ مگ گرم پانی میں بھگوئیں اور تین گھنٹے بعد مل چھان کر اس سے بالوں کو دھوئیں۔بفا دور کرنے میں یہ نسخہ بھی خاصا مفید ہے لیکن ضروری ہے کہ پابندی کے ساتھ کچھ عرصہ تک استعمال کیا جائے۔250گرام بیسن،25گرام گندم کی بھوسی،میتھی کے بیج ،کلونجی،50گرام چقندر کے خشک پتے لئے جائیں،پتوں اور بیجوں کو باریک پیس کر سفوف بنالیاجا ئے اور بیسن گندم کی بھوسی میں ملا کر رکھ لیا جائے۔
ہفتے میں دو تین بار 50گرام کی مقدار میں لیکر عرق گلاب اور سرکہ جامن خالص،اس میں اس قدر ملایا جائے کہ وہ پتلا پتلا لیپ سابن جائے۔پھر بالوں کی جڑوں میں سے مہندی کی طرح لگا دیاجا ئے اور آدھ گھنٹہ بعد پانی سے دھولیا جائے۔اس کے علاوہ بالوں میں روغن گل یا خالص روغن چنبیلی لگانا بھی مفیدہے۔اگر بفابہت زیادہ ہوتو5تولہ روغن گل ایک تولہ روغن کمیلہ ملا کر لگانے کا مشورہ دیتے ہیں یا دوائے خارش جدید 3ماشہ،5تولہ تیل میں ملا کر لگاتے ہیں ۔
یہ بھی بفا کو دور کرنے میں کار آمد ہے ۔روغن گل میں ہی برابر وزن کا سرکہ ملا کر چند روز لگا یا جائے اور پھر سادہ روغن گل استعمال کیا جائے تب بھی مفید ثابت ہوتاہے۔
بفا ایک وقت سے دور ہونے والی ذہن کو کوفت دینے والی چیز ہے لیکن اسے پریشان و متفکر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ تفکرات سے بھی بال گرتے ہیں اور کمزور ہو جاتے ہیں۔پورے پروگرام پر صبر آزما طریقہ پر عمل کرکے اس سے کلی طور پر چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے،لیکن پوری طرح سے بفا کے دور ہونے کے بعد بھی کبھی کبھی بالوں کا تفصیلی جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ کہیں یہ دوبارہ تو شروع نہیں ہورہی ہے۔
اور اگر ایسا شبہ بھی ہوتو فوراً احتیاطی تدابیر شروع کر دینا چاہیے چونکہ بڑھ جانے کے بعد اسے دور کرنے میں وقت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں