آزادی کشمیر سے مذاق کشمیر تک (راجہ انجم.جرمنی)

ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا کشمیری عوام کرفیو کی زد میں آ کر گھروں میں محصور ہیں جن پاکستانیوں پر انہوں نے اپنی امیدیں لگا رکھیں تھیں وہ بحکم سرکار ساتھ کھڑے رہنے کے فلک شگاف نعرے لگانے میں مصروف ہیں وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد کہ” لڑنے کے لئے پاکستان سے کشمیر جانے والا پاکستان کا دشمن ہو گا ” کے بعد جہاں کشمیریوں کی امیدیں دم توڑنے لگیں وہاں بھارتی درندوں کو بھی نہتے کشمیریوں پر شکنجہ مزید کسنے کا حوصلہ پیدا ہوا اب بھارت کو یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ وہ جو چاہے نہتے کشمیریوں کے ساتھ سلوک کرے ہماری طرف سے کوئی مزاحمت نہیں ہو گی کے بعد اب کشمیری عوام محض اللہ تعالیٰ کے آسرے پر ہیں۔ آزادی کشمیر کے احتجاج جو دہائیوں سے یہاں ہو رہے ہیں بد قسمتی سے آجکل زاتی تشہیر پر فوکس ہو کر اپنی افادیت کھو چکے ہیں جب بھی کسی ایسے احتجاج کا اعلان ہوتا ہے چند مخصوص افراد اپنی تصاویر کے ساتھ بڑے بڑے پوسٹروں کے ساتھ واٹس ایپ گروپوں فیس بکس اور بے تکی اخبارات میں احتجاج کی آڑ میں اپنی ذاتی تشہیر میں کمربستہ ہو جاتے ہیں آجکل ایسے احتجاجات میں ہمسایہ ممالک سے بھی کچھ لوگ اپنے آپ کو مشتہر کروانے کے لئے گھر سے اشتہارات بنا کر ساتھ لے آتے ہیں اور فوٹو سیشن اور ویڈیو بنا کر واپس چلے جاتے ہیں زاتی مشہوری کے اس نئے ٹرینڈ نے ایسے احتجاجات کا اصل مقصد ہی ختم کر دیا ہے کیمونٹی کے جو لوگ دور دراز سے آتے ہیں خاموشی سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ مخصوص ٹی وی چینلز پر رات کو چلنے والی احتجاجی خبر میں یہی چند چہرے نظر آتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے بد قسمتی سے کچھ میڈیا کے لوگ بھی اب انہی لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں جرمنی کی کیمونٹی بھی اب ان تماشوں سے بیزار ہو کر کھلے عام اس پر اظہار کرتی نظر آتی ہے جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں کم از کم یہ سوچنا چاہیے کہ ایک کشمیری دیہاڑی دار ، مزدور، ٹھیلہ لگانے والا یا ایک معمولی نوعیت کا عام ملازم گھر میں کتنا راشن سٹاک کر سکتا ہے ؟ زیادہ سے زیادہ چار پانچ دن کا ، اس کے گھر کی کیا حالت ہو گی ؟ بچے بھوک سے بلکتے ہونگے بیمار بناء دوا کے تڑپتے ہونگے گھر کے اندر بھی موت اور باہر نکلیں تو بھارتی فوج کی گولی سے بھی موت ، کتنے اذیت ناک مناظر ہونگے ، ہماری حکومتی بے حسی اور ہمارے ساتھ کھڑے رہنے کے بیانات اور یہاں پر ہونے والے اشتہاری مذاق کشمیری عوام کے کسی کام نہیں ، اگر ان کی حقیقی مدد کرنی ہے تو یہاں یہ کھیل تماشے بند کر کے رقم اکٹھی کی جائے جو پوسٹروں اور ٹی وی پر نظر آتے ہیں بڑا حصہ وہ ادا کریں دوسرا ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالے اور کشمیری عوام تک پہنچائے پیٹ پر پتھر باندھ کر آخر کب تک کوئی جی سکتا ھے ؟
یہ حکم خداوندی بھی ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی اگر حکمران بے حس ہو چکے ہیں عوام کو ہی اپنا فرض پہنچاننا چاہیئے جرمنی کی کیمونٹی الحمداللہ با شعور ہے انہیں بھی مشہوری کے طالبوں کا ساتھ دینے کے بجائے گھر بیٹھ کر ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ غلط روایات کو روکا جا سکے بلا شبہ ہم جرمنی میں رہنے والے محب وطن پاکستانی ہیں اور کشمیری عوام کے ساتھ جینے مرنے کا عزم رکھنے والے ہیں آزادی کشمیر کے لئے کہیں بھی جانے کے لئے ہر دم تیار ہیں مگر ماسوائے ان مقامات پہ جہاں ذاتی مفادات اور ذاتی مشہوری جیسا سستا پن نظر نہ آتا ہو۔

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں