ارتدائی مرکز چناب نگر میں اسلام کی لہر (رپورٹ : افتخار احمد .جرمنی )

قادیانیوں کے ارتدائی مرکز چناب نگر میں کسی قادیانی کا اسلام قبول کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کی کئی وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ کہ یہ سر زمین کفر ہے جہاں ان کی حکمرانی ہے اور حکومت پاکستان کے علاؤہ بےشمار این جی اوز اور غیر ملکی طاقتیں ان کی مکمل پشت پناہی کرتی ہیں دوسری وجہ یہ کہ پورا چناب نگر قادیانی انجمن کی ملکیت ہے یہاں کے قادیانی رہائشی محض ایک کاغذ کے ٹکڑے پر ہی گھروں کے مالک کہلواتے ہیں جبکہ قادیانی انجمن جب چاہے انہیں گھر سے باہر کر سکتی ھے حیرت اس بات کی ہے کہ گھر میں رہنے والا گھر کی پوری قیمت تو ادا کرتا ہے مگر اس کی ملکیت سے بے دخل ہے اگر کوئی قادیانی اسلام قبول کر لے تو سب سے پہلے جماعت اسے گھر سے بےدخل کرتے ہوئے اس کا گھر چھین لے گی تیسری وجہ یہ کہ اس کی نوکری چھن جائے گی ، علماء کرام کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ چناب نگر کے مکینوں کو دوسرے شہروں میں رہنے والے پاکستانیوں کی طرح ان کی جائیدادوں کے مالکانہ حقوق دئے جائیں جو کہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو کہ تسلیم نہیں کیا جا رہا اگر ایسا ہو جائے تو نہ صرف بہت سے بیزار قادیانی نہ صرف مسلمان ہو جائیں بلکہ اپنی جائیدادیں بھی مسلمانوں کو فروخت کر کے شہر کو قادیانی تسلط سے نجات دلائیں ، یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ قادیانی پورے پاکستان میں جہاں چاہیں جائیدادیں خریدیں مگر کوئی بھی مسلمان چناب نگر میں ایک انچ زمین بھی خریدنے کا حق نہیں رکھتا ایسے ارتدائی مرکز میں کسی بھی فرد کا قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنا مجاہد ہونے سے کم نہیں گزشتہ سال 15 اگست 2018ء میں چناب نگر کے دو قادیانی خاندانوں نے قادیانیت سے توبہ کر کے مولانا قاری شبیر احمد عثمانی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اس کے چند روز بعد چناب نگر کے قریبی علاقہ کوٹ قاضی میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد محمد جاوید اس کی اہلیہ حلیمہ بی بی بیٹا عثمان بیٹی سدرہ اور ایک قریبی عزیز نے بھی قادیانیت کو خیر باد کرتے ہوئے اسلام کے دامن میں پناہ لے لی 24 اگست 2018 کو چناب نگر کے محلہ بشیر آباد کے رہائشی ایک ہی خاندان کے چھ افراد محمد عارف اس کی اہلیہ شازیہ بیٹے اسامہ ، عاصم ، عرفان ،زریاب اور بیٹی عاصمہ نے مولانا قاری شبیر احمد عثمانی کی رہائش گاہ پر ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا الحمدللہ ۔ ان کے قبول اسلام کے وقت علاقے کے گواہان بھی موجود تھے جس کے بعد اہل اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مٹھائی تقسیم کی گئی اور نو مسلمین کر مبارکباد دینے کے علاؤہ ان کی استقامت کی خصوصی دعائیں کی گئیں اس موقع پر قادیانیت سے تائب ہونے والے نو مسلمین کا کہنا تھا کہ ہم قادیانیت اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیج کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رسالت سے وابستہ ہو رہے ہیں اور انشاللہ آخری سانس تک عقیدہ ختم نبوت پر قائم رہتے ہوئے ختم نبوت کے لئے جد وجہد کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ اسلام قبول کرنے والوں اور ان کو راہ حق دکھانے یا اس کی معاونت کرنے والوں پر اپنی بے شمار رحمتیں نچھاور کرے آمین ثم آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں