انجام گلستاں (از:کاشف نعیم .سیالکوٹ)

13ماہ قبل جب اسٹیبلشمنٹ نے عمران نیازی کو ملک کے وزیراعظم کے لئے سلیکٹ کیا تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو گا کہ ان کا تراش شدہ پتلا اس بری طرح پٹ جائے گا ٹی وی ٹاک شو میں ایک ریٹائرڈ جنرل باجوہ نے برملا اعتراف کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو عمران نیازی نے مکمل یقین دہانی کروائی تھی کہ اس کے حلف اٹھاتے ہی بیرون ممالک سے اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے نہ صرف پاکستان میں ڈالروں کی بارش ہو جائے گی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاؤہ پاکستانی سرمایہ کار بھی دوڑتے ہوئے پاکستان آ کر معشیت کو بام عروج تک پہنچا دیں گے مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا عمران نیازی کی بار بار اوورسیز پاکستانیوں سے کم از کم ایک ہزار فی کس پاکستان بجھوانے کی تمام درخواستیں بھی رائیگاں گئیں اور وہ تمام ڈاکٹر انجینئر اور دیگر ہنر مند جن کی سامان باندھے تصاویر بھی سامنے آتی رہیں یکسر منظر سے غائب ہو گئے معشیت کا رہا سہا بیڑہ غرق وزیراعظم کے ان بیانات نے کیا جس میں بار بار پیغام دیا گیا کہ پاکستان کو کرپشن نے گھیر رکھا ہے ایسے میں کون بیوقوف ہو گا جو اپنا سرمایہ ایک کرپٹ ملک میں لے کر خود غیر محفوظ ہو جائے معشیت کی رہی سہی کسر وزیراعظم کی جاہل معاشی ٹیم نے متواتر قلابازیاں کھا کر پوری کرکے اسے وینٹی لیٹر پر پہنچا دیا جس اسد عمر کو بی ایم ڈبلیو کا انجینئر کہا جاتا تھا دو پہیوں والی سائیکل کا مستری ثابت ہوا دیگر وزارتیں بھی الا ماشاءاللہ ہی نظر آتی ہیں گزشتہ دنوں وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ہر کسی کو اپنی کارکردگی دکھانا ہو گی وزیر اعلیٰ ہو یا وزیراعظم جو بھی کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ گھر جائے گا ، حکومت کا اصل BOSS کون ہے مشیر اطلاعات کا بیان ظاہر کر گیا تین چار روز قبل وزیراعظم کی مصروفیت کی وجہ سے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کسی بھی سینئر وزیر کے بجائے وزیراعظم کے ذاتی دوست اور غیر منتخب نمائندے نعیم الحق نے کر کے تمام وزراء کے منہ پر وہ طمانچہ مارا ہے جس کی گونج مدت تک ایوانوں میں گونجتی رہے گی وزیراعظم کے متبادل امیدوار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب تقریر کرتے ہیں تو ہنسی پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ھے کشمیر کے سفارتی محاذ پر ان کا سارا زور بگلے کی طرح ایک ٹانگ پر کھڑے رہنے پر ہی ہے اس سے بری کارکردگی خود وزیراعظم کی ہے جس کا بھارتی ہم منصب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما کر دنیا کے ہر اہم ملک پہنچا جہاں اس نے اپنے قبضے کی حمایت حاصل کی جبکہ ہمارا وزیراعظم ابھی تک ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر گھر میں ہی بیٹھا اپنی کامیاب پالیسی کے اعلانات کر رہا ہے جن مسلم دوست ممالک پر انحصار کیا تھا وہ پتے مودی کی راہ میں آنکھیں بچھا کر اور اسے قومی اعزازات سے نواز کر ہوا دے گئے ، وزیراعظم کی ایک بڑی ناکامی اپوزیشن کے سرکردہ راہنماؤں کو کرپش کے بھونڈے الزامات میں گرفتار کروا کر انہیں ابھی تک سزا نہ دلوانا ہے جس طرح کے مزاحکہ خیز مقدمات بنائے گئے وہ عدالتوں میں ثبوت مانگنے پر خود ہی ملامت کا شکار ہونے لگے دنیا بھر میں مذاق الگ بنا جبکہ کسی مقدمے کو بھی منطقی انجام تک نہ پہنچایا نہ جا سکا جن کو سزا دلوائی گئی وہ جج ہی دباؤ کا اعتراف کر کے رسوائی کا باعث بن گئے ، چند روز قبل خود سلیکٹڈ وزیراعظم نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ان کے تحت وفاقی 34 وزارتوں میں سے 28 غفلت کی شکار رہیں جن کو ریڈ کارڈ دکھا دئے گئے ہیں یعنی کہ 28 وزارتوں نے مسلسل تیرہ ماہ تک کام ہی نہیں کیا علاؤہ ازیں بنی گالا میں مقیم پیرنی جی کے استخارے کے نتیجے میں بنائے گئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جنہیں وزیراعظم وسیم اکرم ٹو کہہ کر وسیم اکرم کی توہین کے مرتکب بھی ہوتے ہیں کی کاکردگی پر کوے بھی ہنس رہے ہیں دیگر وزراء کا روزانہ کی بنیاد پر آپس میں دست و گریباں ہونا معمولات میں شامل ہو چکا ہے کہاوت تھی کہ گلستاں کو ویران کرنے کے لئے ایک الو کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے مگر یہاں مولانا ظفر علی خان مرحوم کا کہا ثبت ہوتا ھے جنہوں نے ایک ایسی ہی صورتحال پر فرمایا تھا کہ !
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہوگا
اللہ تعالیٰ ملک و قوم پر اپنا رحم و فضل فرمائے جن کی اتنی خطا نہیں تھی جتنی کہ اسے سزا ملی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں