بیل کی گھنٹی (از:افتخار احمد .جرمنی )

2005ء میں 7.6 ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ تھا زلزلے کی تباہ کاریوں سے نپٹنے اور پاکستانی قوم کا غم بانٹنے کےلئے پوری دنیا نے پاکستان کا ساتھ دیا جرمنی میں قادیانی جماعت کے زعماء نے جن کے کارندے تقریباً ہر بڑے ملک کے سفارت خانے اور قونصل خانے میں کسی نہ کسی ناطے موجود ہوتے ہیں کے ذریعہ قونصل جنرل فرینکفرٹ کو یہ پیغام بھجوایا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم حکومت پاکستان کی مدد کرنے کے لئے 60000 یورو ڈونیشن دینا چاہتے ہیں جو بذریعہ چیک ایک جماعتی تقریب میں دی جائے گی قونصل جنرل جو کہ ان دنوں امداد اکٹھی کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے نے شکریہ کے ساتھ پیشکش قبول کر لی جس روز قادیانی جماعت نے فرینکفرٹ میں یہ تقریب منعقد کرنا تھی قونصل جنرل صاحب جرمنی سے باہر تھے لہذا ان کی ہدایات پر کمرشل اتاشی ( مسٹر جونیجو ) کی سربراہی میں دو اور اعلیٰ افسران وہاں تشریف لے گئے قادیانی جماعت نے طے شدہ منصوبے کے مطابق جرمنی کے چند ممبران پارلیمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی مدعو کئے ہوئے تھے افتتاحی اور خیر مقدمی کلمات کے بعد ایک قادیانی عہدیدار نے جرمن زبان میں جو الفاظ ادا کئے ان کا مختصر خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان نے ایٹم بم بنا کر پورے ملک اور اس کی عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے غریب کے پاس کھانے کی روٹی نہیں جبکہ غیر ملکی پابندیاں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے پاکستان کو ایٹمی پروگرام رول بیک کر کے بین الاقوامی اداروں کا کہنا مان لینا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا ایک ممبر پارلیمنٹ خاتون نے مقرر کو بوسہ بھی دیا جرمن حکام کی خوشی دیدنی تھی ایسا سن کر پاکستانی وفد سکتے میں آگیا انہیں ایسی توقع بالکل نہ تھی غیور افسران نے قادیانی چیک پر لعنت بھیجتے ہوئے تقریب کا بائیکاٹ کیا اور واک آؤٹ کر تے ہوئے حال سے باہر نکل آئے ،قادیانیوں کا مقصد پورا ہو چکا تھا انہوں نے کھلے عام پاکستان دشمنی کا ثبوت مہیا کر کے جرمن حکام کے دل جیت لئے اور ان کی گڈ بک میں آ گئے اس کے بعد ان کے لئے وہ تمام دروازے کھل گئے جو دیگر پاکستانیوں کے لئے آج بھی بند ہیں ۔2011ء میں جب پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی تو ہمیشہ کی طرح سفاتخانے قونصل خانے اور کیمونٹی ڈونیشن اکھٹی کرنے کے لئے کمربستہ ہو گئی ایسے میں قادیانی جماعت نے دس ہزار یورو کا چیک قونصل جنرل صاحب کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا راقم پہلے والا واقعہ قونصلیٹ کے ان ممبران سے سن چکا تھا جو وہاں موجود تھے لہذا میں نے قونصل جنرل صاحب سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان ملک کے غداروں سے دس ہزار کا چیک نہیں لینا چاہیئے تھا مجھے سن کر حیرت ہوئی جب انہوں نے بتایا کہ انہیں ایسے کسی واقعے کا علم ہی نہیں ایسے سانحے کو تو لکھ کر قونصلیٹ کی دیوار پر آویزاں کرنا چاہیئے تھا تاکہ دوبارہ کوئی ان کے دھوکے میں نہ آ سکے ۔ ایک دو سال قبل برلن یا میونخ میں ایک بین الاقوامی سیکورٹی کانفرنس ہوئی تھی جس میں پاکستان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ودیگر بھی موجود تھے اگلے روز سوشل میڈیا پر جس تصویر نے شہرت حاصل کی وہ آرمی چیف اور ایک دوسرے جنرل کے درمیان کھڑے ایک معروف قادیانی کی تھی جسے تقریبا ہر کوئی جانتا ہے اس تصویر نے بہت سے خدشات کو جنم دیا جبکہ ممکن ہے کہ آرمی چیف کو اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہ ہوں مگر اس شخص کو تو سو فیصد معلوم تھا جس نے اس قادیانی کو وہاں تک رسائی دی اسے یہ بھی معلوم ہو گا کہ 2005 ء میں جب زلزلے والی ڈونیشن والا واقعہ پیش آیا تھا تو یہ شخص اس تقریب میں نمایاں تھا ، سمجھ سے بالاتر ہے کہ دنیا بھر کے پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں پاکستانی عیسائی ہندو اور سکھ تو نظر نہیں آتے مگر انتہائی کم تعداد میں ہونے کے باوجود بھی قادیانی اکثر ہر بڑے سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں موجود ضرور ہوتے ہیں ان کی جماعت کا نیٹ ورک بڑا وسیع اور جدید ہے انہیں معلومات یقیناً یہی لوگ فراہم کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے بار بار اپنے خلیفہ کی اطاعت کا حلف اٹھایا ہوتا ھے اسی طرح قادیانی اردو ادب سوسائٹیوں ،صحافیوں اور ممبران پریس کلبوں کے لبادے میں ہر اس جگہ رسائی رکھتے ہیں جہاں انہیں مفید معلومات مہیا ہو سکتی ہوں قادیانیوں کا اپنا نظام ہے جہاں وہ کسی غیر قادیانی کو پھٹکنے بھی نہیں دیتے جبکہ ہم پاکستانی انہیں بیل کی گھنٹی کی طرح گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں جہاں ہم نہ تو ملک و ملت کا مفاد سامنے رکھتے ہیں اور نہ دین کا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد جسے جماعت قمرالانبیاء کے نام سے پکارتی ہے اپنی تصنیف کلمتہ الفصل کے صفحہ 110 پر لکھتا ہے کہ ” ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے پر مسیح موعود علیہ السلام ( مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ”
مرزا غلام قادیانی اور اس کی امت نے کبھی بھی مسلمانوں کے لئے زرہ برابر بھی رعایت نہیں برتی تو ان سے رواداری کا درس دینے والوں کو کم از کم ایک لمحہ کے لئے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا کہیں وہ دین سے لا تعلقی اور ملک و ملت سے زیادتی تو نہیں کر رہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں