وزیراعظم کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرعالمی برادری کے بڑھتے تحفظات کا خیرمقدم

اسلام آباد (جے ایم ڈی)وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کے بڑھتے تحفظات کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزیراعظم کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور انسانی حقوق کونسل کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں 6 ہفتوں سے جاری محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ خوش آئند ہے۔

میں اقوام عالم، عالمی رہنماؤں، یو این سیکرٹری جنرل اوراقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے اظہارِ تشویش اور بھارت سے کشمیر کے 6 ہفتوں سے جاری محاصرہ اٹھانے کے مطالبے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

غاصب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں محاصرے کی آڑ میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی سے دنیا کو اب مزید لاتعلق نہیں رہنا چاہئیے۔ میں جینیوا سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے آج کے بیان کا خصوصی خیرمقدم کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے، بھارتی قابض فوج وحشیانہ محاصرے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔

غاصب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں محاصرے کی آڑ میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی سے دنیا کو اب مزید لاتعلق نہیں رہنا چاہئیے۔ میں جینیوا سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے آج کے بیان کا خصوصی خیرمقدم کرتا ہوں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے میری درخواست ہے کہ کشمیر پر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی دورپورٹوں کی روشنی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی کی تحقیق کیلئے فوری آزادانہ تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔ عملی اقدامات اٹھانے کا یہی وقت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے میری درخواست ہے کہ کشمیر پر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2 رپورٹوں کی روشنی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی کی تحقیق کیلئے فوری آزادانہ تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عملی اقدامات اٹھانے کا یہی وقت ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل باشلے نے جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے 42 ویں اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع مواصلات، پُرامن اجتماعات پر پابندی اور مقامی سیاسی قیادت کی گرفتاریوں پر تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت جموں کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیو میں نرمی لائے اور انسانی حقوق کی پاسداری اور تحفظ کرے، عوام کی بنیادی سہولیات تک رسائی ممکن بنائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں