پاکستان کی سالمیت و استحکام کی لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،پیر علی رضا بخار

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن و سجادہ نشین درگاہ بساہاں شریف پیر علی رضا بخاری نے کہا ہے کہ پاکستانیت پر مبنی سوچ کی آبیاری ہی وطن عزیز کی ترقی ،خوشحالی اور مضبوطی کی بنیاد اور مودی کی آئینی دہشتگردی کا منہ توڑ جواب ہے۔ پاکستان کو جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لئے قوم کا اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر ایک صفحہ پر ہونا ضروری ہے، پاکستان کی سالمیت و استحکام کی لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، اقبال و قائد کے افکار سے استفادہ کرنے کی ضرور ت ہے ، تقریری مقابلہ میں حصہ لینے والے اور نمایاںٴْ کارکردگی پر طلبا و طالبات مبارکباد کے مستحق ہیں ، طلبہ و نوجوان پیغام پاکستان کی روشنی کو گھر گھر پہچانے کے لئے بھرپور کوشش کریں۔
وہ ادارہ تعلیمات قرآن شادمان گجرات و جامعہ سیفیہ رحمانیہ برائے طالبات میں پیغام پاکستان کانفرنس بسلسلہ جشن ازادی پاکستان و یکجہتی کشمیر سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پیغام پاکستان بین المدارس تقریری مقابلہ بھی انعقاد کیا گیا۔ ممبر قومی اسمبلی سید فیض الحسن شاہ ، سابق صوبائی وزیر میاں عمران مسعود ،صاحبزادہ پیر عاشق اللہ سیفی مفتی ڈاکٹر عابد حسین رضوی ،محترمہ تسنیم ہاشمی ، علامہ جواد الرحمن نظامی ، پیر محمدفاروق سیفی ، مولانا فیض رسول نقشبندی ،پیر غلام مرتضی محمدی ، صاحبزادہ منیر احمد ،پروفیسر کاشف شریف ، و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ممبر قومی اسمبلی سید فیض الحسن شاہ نے کہا کہ ’’پیغام پاکستان ‘‘بیانیہ کا عام ہونا اور لوگوں کو آج کے دور کی سوچ کا قائل کرنا بہت ضروری ہے۔پاکستانی بیانہ کی اہمیت بہت زیادہ ہیں اور آج کے دور میں جب بدلتی ہوئی رتوں میں سیاستدانوں کے ’’بیانیوں‘‘ کو میڈیا میں زیادہ جگہ مل رہی ہے،نمایاں کیوریج پیغام پاکستان بیانیہ کو بھی ملنی چاہیے جو آج کی سیاست ،ملی یکجہتی اور قومی سالمیت کی بھی ضرورت ہے۔
یہ ،اہل کشمیر خود پاکستان اور اہل پاکستان کی بھی ضرورت ہے پاکستان و کشمیر کے حوالہ سے بین المدارس تقریری مقابلہ لائق تحسین مثال ہے۔پیر ڈاکٹر عابد حسین نے کہا کہ قومی بیانیہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف موثر انداز میں کام کر ے گا ہمارے ملک میں وسائل اور صلاحیتوں کی کمی نہیں صرف انہیں درست استعمال میں لانا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا میں ایک ترقی یافتہ اور مستحکم ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس و یونیورسٹیاں اس پیغام کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں وہ اس کیلئے مبارکباد کی مستحق ہیں، اس کے بعد پاکستان کو کوئی کامیابی سے نہیں روک سکتا، مہتمم ادارہ تعلیمات قرآن گجرات علامہ جواد الرحمن نظامی نے کہا کہ ہم اتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں آزاد پاکستان ملا۔انہوں نے کہا کہ مدارس کو قومی دھارے میں لایاگیا ہے، مدارس کے طلباء کو بھی آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل مدارس کے طلبائ کیلئے آگے بڑھنے کے مواقع نہیں تھے اور انہیں صرف دینی تعلیم ہی دی جاتی تھی عصری علوم کے ذریعے ایک نیا نکھار آرہا ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ملک و قوم کے دفاع اور ترقی میں تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔بانی جامعہ سیفیہ رحمانیہ محترمہ تسنیم ہاشمی نے کہا کہ دین و تصوف کی خدمت شعار ہے ، صوفیانہ تعلیم کو عام کر کے جہالت کے اندھیروں سے قوم کو نکالا جا سکتا ہے جامعہ سیفیہ رحمانیہ کی درجنوں برانچز اور ہزاروں طالبات پاکستان کی سالمیت اور ازادی کشمیر کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں پیر عاشق اللہ سیفی آستانہ عالیہ فقیر آباد شریف نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہماری سوچ بھی ایک ہونی چاہئے۔
استحکام پاکستان و ازادی کشمیر کے لئے سب سیب بڑی قوت اتحاد و یگانگت ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے دفاع کے لئے پوری قوم جیب طرح سلسلہ نقشبدیہ سیفیہ کے لاکھوں مریدین اپنی بہادر افواج کے ساتھ صف اوّل میں ہر طرح لیب قربانی دینے کتب لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جو قتل عام ہندوستانی فوج کر رہی ہے اس کا ہندوستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔شکست ہندوستان کا مقدر بنے گی۔اس موقع پر بین المدارس تقریری مقابلہ میں نمایاںٴْ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں