عوام کو شناختی کارڈ کی کاپی پر درج نمبر پر سیاہی پھیرنے کی ہدایت

عوام کو شناختی کارڈ کی کاپی پر درج نمبر پر سیاہی پھیرنے کی ہدایت، پنجاب انفارمیشن کمیشن کے احکامات کے مطابق ایسا کرنے سے شناختی کارڈ کی کاپی کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب انفارمیشن کمیشن کی جانب سے عوام کے نام خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ یہ احکامات شناختی کارڈ کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے سے ہیں۔
عوام کو تلقین کی گئی ہے کہ جب بھی شناختی کارڈ کی کاپی کسی کو فراہم کی جائے، تب اس پر درج نمبر کو سیاہی پھیر کر چھپا دیا جائے۔ شناختی کارڈ نمبر سے حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اس لیے اگر کارڈ نمبر کو سیاہی سے چھپا دیا جائے تو اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کردیا۔

نادرا نے سابق اور آئندہ کے کونسلر اور چیئرمینوں کے پاس موجود سی این آئی سی کی تصدیق کا اختیار ختم کردیا۔ نادرا کے مطابق نئے شناختی کارڈ یا ب فارم کے لئے برتھ سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کر دی ہے۔ میٹرک کی سند، پاسپورٹ یا ڈومیسائل پہ کارڈ بن جائے گا‘ والد والدہ کے کارڈ کے ساتھ تاریخ پیدائش لکھ کر دیں‘ ب فارم بن جائیگا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ کے فارم کی تصدیق کا طریقہ بھی تبدیل کر دیا ہے نئی پالیسی کے تحت گزیٹڈ افسر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے‘ کارڈ ہولڈر والد یا بھائی یا فیملی ممبر ازخود فارم تصدیق کر سکے گا۔
نئی پالیسی میں میٹرک کی سند، پاسپورٹ، ڈومیسائل اور والدین کے شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے۔ بیان کے مطابق خواتین کو قومی شناختی کارڈ بنانے کے لئے اب نکاح نامے کی ضرورت نہیں ہو گی، شوہر کے کارڈ پر بیوی کا نیا کارڈ بنے گا صرف 20 کا اسٹامپ پیپر لگانا ہوگا۔ قبائلی اضلاع کے رہائشی کسی بھی شہر سے قومی شناختی کارڈ بنوا سکیں گے۔ نادرا حکام نے نیا شناختی کارڈ بنانے کے حوالے سے نئی پالیسی جاری کر دی جس پر آج سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
کارڈ گم ہونے پہ ایف آئی آر کی ضرورت نہیں اسٹامپ پیپر پر بیان حلفی گمشدگی جمع کرانے کے بعد نیا شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا جبکہ قومی شناختی کارڈ وصولی کے لیئے اصل ٹوکن کے ساتھ خود دفتر جانا ہوگا‘ اگر کوئی رشتہ دار جائے تو اتھارٹی لیٹر اس سے لے کے جائے اور کارڈ مل جائیگا۔نئی پالیسی کے تحت نام تبدیلی کیلئے اخبارات میں اشتہار نہیں دینا ہو گا نئے کارڈ کے لیئے نادرا افسر انٹرویو کرے گا اور کمنٹس دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں