تمہیں وطن کی فضائیں سلام کہتی ہیں(از:افتخار احمد.جرمنی)

محمد محمود عالم جنہیں قوم ایم ایم عالم کے نام سے جانتی ہے 6 جولائی 1935ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ڈھاکہ ہجرت کر گیا ایم ایم عالم نے 1953ء میں پاکستان ائر فورس میں کمشن حاصل کیا 6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم سرگودھا میں تعینات تھے جنگ کے پہلے ہی روز انہوں نے بھارت میں گھس کر اس کے تین جہاز مار گرائے جبکہ تین کو شدید نقصان پہنچایا 7 ستمبر کو بھارتی فضائیہ نے پاکستان ائر فورس کے سرگودھا بیس کو تباہی کرنے کا منصوبہ بنایا جس پر عملی جامہ پہناتے ہوئے انہوں نے علی الصبح سورج کی پو پھٹنے کے ساتھ ہی سرگودھا پر 4 حملے کئے ایم ایم عالم دو بھارتی جنگی جہازوں کا پیچھا کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر پانچ بھارتی جہازوں پر پڑی اور پھر انہوں نے چند ہی لمحوں میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ طیارے تباہ کر دئے چار بھارتی پائلٹ مارے گئے جبکہ ایک پائلٹ سکواڈرن لیڈر اونکر ناتھ پیرا شوٹ کے ذریعے کود گیا اس نے نیچے اترتے ہی فوری طور پر اپنے بیج اتارے اور سادہ لوح دیہاتیوں کو بتایا کہ وہ پاکستانی پائلٹ ہے بعد از ایک سمجھدار شخص نے شور مچا کر اسے پکڑا اور پولیس کے حوالے کر دیا ایم ایم عالم کے اس عظیم کارنامے کا اعتراف پوری دنیا نے کیا اور انہیں ستارہ جرات کے اعزاز سے نوازا گیا ( راقم اس وقت چناب نگر میں رہتا تھا جہاں میں نے اپنی آنکھوں سے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر ایم ایم احمد کو دشمن کے طیاروں کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا نہایت خوفناک آواز تھی جو آج بھی یاد ہے ) جنگ کے اختتام پر ایم ایم عالم ائر فورس کے نوجوانوں کا آئیڈیل اور پاکستان کے ہیرو بن چکے تھے 1971ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو بد قسمتی سے ایم ایم عالم سمیت تمام بنگالی افسروں کے جہاز پر پابندی عائد کر دی گئی ایم ایم عالم بہت رنجیدہ ہوئے ان کا پورا خاندان ڈھاکہ میں تھا جنہیں انہوں نے بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان بلا لیا اور وہ آخری وقت تک پاکستان میں ہی رہے کہ پاکستان ان کے ایمان کا حصہ تھا ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان ائر فورس کے سربراہ ائر مارشل ظفر چوہدری ایم ایم عالم سے حسد کرنے لگے یہ وہی قادیانی ظفر چوہدری تھے جنہوں نے چناب نگر میں ہونے والے قادیانی جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسہ گاہ میں موجود قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد کو جنگی جہاز کو نیچی پرواز کے دوران قلابازی کھاتے ہوئے سلامی دی تھی اس موقع پر بھی راقم جلسہ گاہ میں موجود تھا جہاں سلامی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس وقت کی اپنی جماعت پر رشک کیا تھا ایک روز ائر مارشل ظفر چوہدری نے کسی بات پر ناراض ہو کر انہیں باغی قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا اور ایر فورس کے میس میں بند کر دیا ائر فورس کے نوجوان افسروں نے اپنی نوکریوں کی پرواہ کئے بغیر اس زیادتی کے خلاف سخت احتجاج کیا جس پر انہیں فوری رہا کر دیا گیا اس واقعے کی اطلاع ذوالفقار علی بھٹو تک پہنچی تو انہوں نے انکوائری کروائی اور ظفر چوہدری کو ہٹا کر ذوالفقار علی خان کو ائر فورس کا سربراہ مقرر کر دیا کچھ عرصہ بعد ایم ایم عالم ڈیپوٹیشن پر شام چلے گئے جہاں وہ شام کی فضائیہ کے افسران کو تربیت دیتے رہے واپس آئے تو ضیاء الحق بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ چکے تھے جنرل ضیاء نے آتے ہی ائر فورس میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں ایک روز ایم ایم عالم نے جنرل ضیاء کے سامنے کھڑے ہو کر کیا کہ وہ اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے غلط لوگوں کو آگے لا رہے ہیں جس کے جواب میں جنرل ضیاء الحق نے طنزاً کہا کہ آخر وفاداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے یہ سن کر بےباک ایم ایم عالم نے بلند آواز سے کہا کہ وفاداری وہ ہوتی ہے جو کسی کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ قوم کے ساتھ ہوتی ہے جنرل ضیاء الحق اس وقت تو خاموش رہے مگر خاموشی سے ہی ان کی پروموشن روک کر انہیں آئر فورس سے ریٹائر کر دیا وہ قومی ہیرو جسے پاکستان ائر فورس کا سربراہ بننا تھا 1982 میں فارغ کر دیا گیا ایم ایم عالم جو سب کے لئے آواز اٹھاتے تھے جب ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تو ان کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہ تھا ایم ایم عالم نے تمام عمر شادی نہیں کی اپنے بہن بھائیوں کی کفالت میں مصروف رہے ریٹائرڈ منٹ کے بعد خاموشی سے افغانستان پر قابض روسی افواج کے خلاف مزاحمت کرنے والے مجاہدین کی مدد کرتے ہے تمام عمر اپنا ذاتی گھر تک نہ بنا سکے کچھ عرصہ چکلالہ اور کچھ کراچی ائر بیس میں گزارے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر کبھی لب کشائی نہ کی بنگلہ دیش میں انہیں واپس آنے کی کئی بار پیشکش کی گئی مگر پاکستان کے وفادار نے ہر بار ٹھکرا دیا ۔ 18 مارچ 2913 ء کو کراچی کے ایک ہسپتال میں خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے تو پاکستان کی اکثریت اپنے عظیم قومی ہیرو کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں سے آگاہ تک نہ تھی یہ وہ حقیقی ہیرو تھا جس کے بارے میں شاعر نے لکھا تھا کہ !
تمہیں وطن کی فضائیں سلام کہتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں