معذرت کیساتھ…ہمیں خوشی ہوئی (تحریر:یوسف چوہدری)

چاند پر جانے کی کوشش کرنے یا چھونے کی کوشش کرنےپر یا خلائی مشن کی ناکامی پر کسی پاکستانی نے کسی کو تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا اور نہ مذاق اُڑایا ہے ، پہلے بھی دُنیا کے مختلف ممالک چاند پر اُترنے میں کئی بار ناکام ہوئے کئی ممالک کے مشن کامیاب ہوئے یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا مگر پاکستانیوں کیلئے خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے والے مُلک دشمن کی ناکامی ہوئی ہے ، اور ہمیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ یہ وہی مُلک ہے جس نے پاکستان میں کھیلوں کو تباہ کرنے کیلئے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کیا تھا ، ہاں ہمیں خوشی ہے کہ وہ دہشتگرد مودی جس نے بھارت میں مُسلمانوں پر زمین تنگ کر دی اُس کے عہد میں انڈیا ناکام ہوا ، ہاں ہمیں خوشی ہے کیونکہ کشمیر میں ظلم وستم کے درمیان ہندؤں کی خوشی خاک میں مل گئی ، ہاں ہمیں خوشی ہے کیونکہ آئے روز ایل او سی پر ہمارے نہتے شہریوں پر انڈیا کی فوج ہی گولہ بارود استعمال کرتی ہے ، ہاں ہمیں خوشی ہے کیونکہ بھارت ہی بلوچستان کو علیحدہ کرنے کیلئے بھر پور کوششوں میں شامل ہے اور ہاں ہمیں تب تب خوشی ہو گی جب جب ہمارے دشمن مُلک کو ناکامی ہو گی ، اپنی نصیحتیں اپنے پاس سنبھال کر رکھیں ، پچھلے چالیس سالوں سے مُلک چوروں کے حوالے کیا رکھا اُس وقت پاکستان کے حالات پر رونا نہیں آیا اور آج جب کچھ پلے نہیں رہا تو ایسے میں اگر بھارتی ہندوؤں کی ناکامی پر کسی کو خوشی ہو رہی ہے تو بھاشن دینے شروع کر دیئے ہیں ، ہاں اگر کسی اور مُلک کی ناکامی ہوتی تو شائد ایسا ردعمل نہ ہوتا جس طرح دوسرے ممالک کی نسبت کرکٹ میچ انڈیا سے ہارنے پر دُکھ زیادہ ہوتا ہے اسی طرح چندریان 2 کی ناکامی پر نہیں بلکہ بھارت کی ناکامی پر خوشی ہوئی ہے ، ایک مولانا فضل الرحمن ہے جو یوم دفاع پر بھارت کی زبان بولتے ہوئے اپنی ہی فوج پر تنقید کے نشتر چلاتا ہے اور ایک آپ ہیں کہ پاکستانیوں سے زمین پر چاند تو دیکھا نہیں جاتا کی صورت میں چاند پر اُترنے والوں کے حوالے سے تنقید کے بھاشن شروع ، بھائی پاکستان کے اور بہت سے مسائل ہیں جن پر تنقید کرکے آپ دل خوش کر سکتے ہیں مگر دُشمن کی ناکامی پر تو زبانیں بند نہ کرواؤ !!!

اختلاف کرنے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے مگر دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے اختلاف کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں