حکومتی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی، وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن مستعفی ہوگئے

سینئر رہنما اپنے عہدے اور کئی پارٹی رہنماوں کے رویے سے سخت نالاں تھے، ان کی جگہ فواد چوہدری کو وزیراعظم کا ترجمان مقرر کر دیا گیا

حکومتی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی، وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن مستعفی ہوگئے، سینئر رہنما اپنے عہدے اور کئی پارٹی رہنماوں کے رویے سے سخت نالاں تھے، ان کی جگہ فواد چوہدری کو وزیراعظم کا ترجمان مقرر کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر اپنے عہدے اور حکمراں جماعت کے کئی لوگوں کے رویے سے سخت نالاں تھے۔ ندیم افضل چن نے اسی باعث وزیراعظم کے ترجمان کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ندیم افضل چن کی جگہ فواد چوہدری وزیراعظم کے ترجمان ہوں گے۔

فواد چودھری وزارت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کے ترجمان کے طور پر بھی کام کریں گے۔

اس تمام معاملے کے حوالے سے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن جو کہ پارلیمانی امور پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر بھی ہیں ، اپنی پوزیشن کو برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے فواد چودھری، جو میڈیا افئیرز میں ماہر ہیں، سے دوبارہ پوزیشن سنبھالنے کی درخواست کی۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم آفس اس حوالے سے چند روز میں باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کرے گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بابر اعوان کو وفاقی کابینہ میں آئندہ ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں میں وزیراعظم عمران خان کا مشیر خاص تعینات کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے مشیر خاص برائے میڈیا افتخار درانی بھی اپنے پوزیشن کے حوالے سے خاصے لا پرواہ نظر آتے ہیں۔
انہیں قبائلی علاقہ جات میں الیکشن مہم کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد سے ہی وہ منظر عام سے غائب ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ افتخار درانی کو وزیراعظم آفس میں دیا جانے والا چیمبر بھی آج کل خالی ہے اور انہیں کابیہ کے گذشتہ تین سے چار اجلاسوں میں مدعو بھی نہیں کیا گیا۔ کچھ ذرائع نے بتایا کہ افتخار درانی اپنی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دے رہے ہیں لیکن وہ وزیراعظم آفس کی بجائے اسلام آباد میں موجود پارٹی آفس میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ افتخار درانی سے اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ میں نے قبائلی علاقوں میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی اور اب میں اگلے ٹاسک کا انتظار کر رہا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں