دو اسپتالوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایمبولینس دینے سے انکار کر دیا

دونوں اسپتالوں نے محکمہ صحت کو نواز شریف کے لیے ریسکیو 1122 سے رابطہ کرنے کا مشورہ دے دیا

کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کو دو اسپتالوں نے خصوصی ایمبولینس فراہم کرنے سے انکار کر دیا ، یہی نہیں بلکہ محکمہ صحت کو ریسکیو 1122 سے رابطہ کرنے کا مشورہ بھی دے دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو حکومت کی جانب فراہم کی جانے والی ایمبولینس میں سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے محکمہ جیل خانہ جات نے محکمہ صحت پنجاب سے نواز شریف کے لیے بہتر سہولیات والی دوسری ایمبولینس فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
محکمہ جیل خانہ جات کی درخواست پر محکمہ صحت پنجاب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے دو اسپتالوں کو ایک خاص ایمبولینس فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

محکمہ صحت پنجاب نے دو اسپتالوں سے کہا کہ نواز شریف کے لیے کوئی ایسی خصوصی ایمبولینس فراہم کی جائے جس میں وینٹی لیٹر، ڈی فیبیلیٹر، ای سی جی، اور کارڈیک مانیٹر کی موجودگی لازمی ہو۔

ذرائع کے مطابق ان ہدایات کے جواب میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارے پاس کوئی کارڈیک ایمبولینس نہیں ہے۔ ایمبولینس صرف ڈاکٹر دے سکتے ہیں ۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے نہ صرف ایمبولینس دینے سے انکار کیا بلکہ ساتھ ہی محکمہ صحت پنجاب کو سروسز اسپتال سے خصوصی ایمبولینس لینے کا مشورہ بھی دے دیا۔ جب سروسز اسپتال سے رابطہ کیا گیا تو سروسز اسپتال کے ایم ایس نے محکمہ صحت کو جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ اسپتال کو جاپانی حکومت سے ملنے والی ایمبولینس وی وی آئی پی، وی آئی پی، وزیر اعظم، صدر اور وزیر اعلٰی کے پروٹوکول میں استعمال ہوتی ہیں جبکہ دوسری ایمبولینسز اسپتال کے مریضوں کو منتقل کرنے کے لیے مختص ہیں۔
اسپتال کے ایم ایس نے محکمہ صحت پنجاب کو مشورہ دیا کہ آپ ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ریسکیو نواز شریف کے لیے جیل میں ایمبولنس فراہم کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں