ناروے: مسجد میں فائرنگ ایک شخص زخمی، مبینہ حملہ آور گرفتار

اوسلو (جے ایم ڈی)ناروے میں ایک مسجد میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے نواح میں واقع النور اسلامک سینٹر میں داخل ہو کر ایک مبینہ مسلح شخص نے فائرنگ شروع کر دی۔

اوسلو میں اسسٹنٹ پولیس چیف رون سکجولڈ نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور ‘لگ بھگ 20 برس کا ہے اور وہ ناروے کا شہری ہے۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشتبہ حملہ آور پر اپنے ایک رشتہ دار کو قتل کرنے کا شبہ بھی ہے۔

مسجد میں پیش آئے واقعے کے بعد پولیس نے مشتبہ شخص کے گھر سے ایک خاتون کی لاش بھی برآمد کی ہے۔

پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ‘ہم اسے ایک مشکوک ہلاکت سمجھ رہے ہیں۔۔۔ ہلاک ہونے والی خاتون اس مشتبہ شخص کی رشتہ دار ہے جسے آج صبح گرفتار کیا گیا۔’

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا مسجد پر حملہ کرنا ایک انفرادی فعل تھا اور اس وقت وہ اکیلے تھے۔

مسجد کے ڈائریکٹر نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والا شخص 75 برس کا ہے اور وہ مذہبی اجتماع کا حصہ تھا۔

مسجد کے ڈائریکٹر عرفان مشتاق نے مقامی اخبار کو بتایا کہ ‘ہماری ایک رکن کو ایک سفید فام شخص نے گولی ماری۔ حملہ آور ہیلمٹ اور یونیفارم پہنا ہوا تھا۔’

عرفان مشتاق نے مقامی چینل ٹی وی 2 کو بعد ازاں بتایا کہ حملہ آور ‘کے پاس دو شاٹ گنز جیسے ہتھیار اور ایک پستول تھا۔ وہ ایک شیشے کے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوا اور گولیاں چلائیں۔’

عرفان مشتاق نے بتایا کہ حملہ آور جسم پر زرہ بکتر پہنے ہوئے تھا اور مسجد میں موجود لوگوں نے اسے پولیس کی آمد سے قبل ہی پکڑ لیا تھا۔

پولیس ذرائع نے ناروے کے سرکاری ادارے این آر کے کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد مسجد سے بڑی تعداد میں ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ مسجد پر حملے کے بعد ناروے کی اس مسجد میں اضافی سکیورٹی کے اقدامات کیے گئے تھے۔

رواں سال کے آغاز میں کرائسٹ چرچ مسجد پر حملے میں 51 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

(بشکریہ:بی بی سی اردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں