پنجاب: ہر 10 میں سے 4 بچے نامکمل نشوونما کا شکار، غذائی مسئلہ بھی سنگین

لاہور(جے ایم ڈی) پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب اور یونیسف کے زیر اہتمام صوبائی سطح پر قومی غذائی سروے (این این ایس) 2018ء کے اعدودوشمار کے اجراء کے حوالے سے تقریب لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد، چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ حبیب الرحمان، آغا خان یونیورسٹی کے سنٹر آف ایکسلینس کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر ذوالفقار بھٹہ، چیف آف نیوٹریشن یونیسیف ڈاکٹر ایرک ایلان، سیکرٹری ہیلتھ زاہد اختر زمان، ڈائریکٹر غذائی امور وزارت صحت ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی اور ممبر پی اینڈ برائے صحت غذا اور آبادی ڈاکٹر سہیل ثقین کے علاوہ دیگر سٹیک ہولڈرز اور مختلف اداروں سے ریسرچ سکالرز نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد قومی غذائی سروے 19-2018 کے اعدادو شمار کی روشنی میں صوبہ پنجاب میں تشویش ناک غذائی صورتحال پر روشنی ڈالنا تھا صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب صوبے میں غذائی قلت کی سنگین صورتحال سے بخوبی واقف ہے یہی وجہ ہے کہ ہم آئندہ نسل میں خوراک کے کمی کو پورا کرنے کیلئے ماں اور بچے کی صحت کو یقینی بنا رہے ہیں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی صوبے میں مدر اینڈ چائلڈ کیئر یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے چلڈرن ہسپتال کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے ایسے تمام اضلاع جہاں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے سہولیات موجود نہیں ہیں وہاں مدر چائلڈ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں اس ضمن میں حکومت پنجاب پانچ ہسپتالوں کا اعلان کر چکی ہے ڈاکٹر مراد راس نے اپنے خطاب کے دوران شرکاء کو بتایا کہ حکومت پنجاب سکول جانے والے بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے کیلئے سکول نیوٹریشن پروگرام ککا آغاز کر رہی ہے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے تقریب کے شرکاء کو سروے رپورٹ کے اعدادو شمار سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا قومی غذائی سروے 19-2018 ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب میں ہر 10 بچوں میں سے 4 بجے نامکمل نشوونما کے مسئلے کا شکار ہیں اس کے علاوہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں ہر 10 میں سے تقریباً 2 بچے ناقص اور نامکمل غذاء ملنے کی وجہ مناسب نشوونما سے محروم اور موت کے خطرات سے دو چار ہیں 23.5 فیصد بچے اسی مسئلے کی وجہ سے وزن کی کمی کا شکار ہیں اور پنجاب میں وزن کی زیادتی کا شکار بچوں کی تعداد 9.9 فیصد ہے اس کے علاوہ سروے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر 8 میں سے ایک نو بالغ لڑکی اور ہر 8 میں سے 2 نو بالغ لڑکے کے وزن کی کمی کا شکار ہیں اس کے علاوہ صوبے میں تقیرباً 41 فیصد نو بالغ لڑکیاں خون کی کمی کا شکار ہیں یونیسیف کے چیف نیوٹریشن ایرک ایلن نے کہا کہ یونیسیف پنجاب میں غذائی مسائل کے حل کے سلسلے میں حکومت سے بھرپور تعاون کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں