بول کے لب آزاد ہیں تیرے

منڈی بہاوالدین میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جلسہ کرنا چاہا تو فاشسٹ حکمران نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جب مریم نواز بضد رہیں تو جلسہ گاہ میں پانی چھوڑ دیا گیا پھر بھی وہ جلسے کے بجائے ریلی نکالنے پر مجبور ہوئیں تو میڈیا کو اس کی لائیو کوریج کرنے سے منع کر دیا گیا جن تین نجی ٹی وی چینلز نے اس کو بھرپور کوریج دی انہیں بند کرنےکے احکامات پیمرا کے ذریعے جاری کروا دئے گئے اس کے بعد مریم نواز نے مہنگائی کے خلاف فیصل آباد میں جلسے کا اعلان کیا تو فاشست حکمران نے یہاں بھی وہی حربے استعمال کروائے اس روز فیصل آباد کے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تباہی اور مزدوروں کی بے روز گاری اور مہنگائی سے تنگ آ کر سراپا احتجاج تھے مگر پاکستان بھر میں تمام میڈیا چینلز اور اخبارات کو جبری طور پر جلسہ دکھانا اور خبریں اشاعت نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جس سے عوام حقائق دیکھنے سے محروم رہے آج بھی پوری اپوزیشن جماعتیں گزشتہ سال کے جعلی انتخابات کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کر چکے ہیں مگر ٹی وی چینلز وزیراعظم کے چہرے کو ہی دکھانے پر مجبور نظر آ رہے ہیں.

ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جب اخبارات پر ایسی پابندیاں عائد کی گئیں تو احتجاجاً اخبارات سنسر کی گئی خبروں پر کالی سیاہی پھیر کر اخبار شائع کر دیتے تھے پاکستان پیپلز پارٹی کا ترجمان مساوات اخبار کا فرنٹ پیج تو بعض اوقات تین چوتھائی سیاہ ہوا کرتا تھا مگر عوام اسے بطور احتجاج اور زیادہ خرید کر ڈکٹیٹر سے اپنی نفرت کا اظہار کیا کرتے تھے سنسر شپ کے ذریعے جتنی سیاہی اخبارات کے صفحات پر نظر آئی اس سے کہیں زیادہ کالک ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے منہ پر تاریخ نے ملی جو آج تک دھل نہیں سکی طاقت کے نشے میں بد مست آج کا فاشسٹ حکمران بھی انہی راستوں پر چل رہا ہے جن پر چلنے والے مثال عبرت بن کر آج بھی لوگوں کی تھو تھو کا شکار ہیں صحافت آج پھر صحافیوں سے انہی قربانیوں کا مطالبہ کر رہی ہے جو اس سے قبل فرعونی ادوار میں وہ دیتے آئے ہیں یقیناً اقتدار کے نشے میں بد مست حاکم رکے گا نہیں مگر اس کے آگے دیوار کھڑی کرنا اور سچ کو سامنے لانے کی تمام تر زمہ داری صحافی برادری ہی کی ہے انہیں ظلم و جبر کے ہتھکنڈوں کے سامنے بغیر کسی ڈر اور خوف کے سینہ و سپر ہو جانا چاہیے کہ یہی ان کی زمہ داری ہے اور اسی میں ان کی بقاء ، یاد رکھیں اگر آج آپ کسی کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے تو کل کو تمہارے لیے بولنے والا کوئی نہیں ہو گا-اٹھو آگے بڑھو اور اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے سچ کو سامنے لاؤ .
بول کے لب آزاد ہیں تیرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں