مختصر لباس پہن کر جہاز میں سوار ہونیوالی کوعملے نے طیارے سے ہی اتار دیا

میڈرڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) فضائی سفر کے دوران ساتھی مسافروں یا عملے کے اراکین کے ساتھ بدتمیزی اور ہنگامہ کرنے پر تو مسافروں کو ہوائی جہازوں سے اتارے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن گزشتہ دنوں سپین میں ایک برطانوی خاتون کو اس کے مختصر اور انتہائی باریک لباس کی وجہ سے جہاز سے اتار دیا گیا۔میل آن لائن کے مطابق 31سالہ ہیریٹ اوسبرن نامی یہ خاتون چھٹیاں منا کر واپس برطانیہ آنے کے لیے سپین کے میلاگا ایئرپورٹ پر پہنچی جہاں سے اسے ایزی جیٹ ایئرلائنز کی پرواز پکڑنی تھی لیکن وہ جیسے ہی جہاز میں سوار ہوئی، ایک ایئرہوسٹس نے اس کے کپڑوں پر اعتراض کر دیا۔میک اپ آرٹسٹ ہیریٹ نے ایسے مختصر اور باریک کپڑے پہن رکھے تھے جن میں سے اس کا جسم نظر آ رہا تھا۔ ایئرہوسٹس نے اسے کہا کہ پرواز میں بچے بھی سوار ہیں چنانچہ ان کی موجودگی میں یہ لباس پہن کر آپ سوار نہیں ہو سکتیں۔ اس معاملے پر ایئرہوسٹس اور ہیریٹ کی توں تکرار ہوئی جس کے بعد اسے جہاز سے اتار دیا گیا۔ ہیریٹ کا کہنا تھا کہ ”میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرے لباس کی وجہ سے مجھے جہاز سے اتار دیا جائے گا۔ وہ رات میں نے میلاگاایئرپورٹ پر ہی گزاری اور اگلے روز نئی پرواز سے واپس برطانیہ پہنچی۔ اس سے مجھے 149پاﺅنڈ (تقریباً 31ہزار روپے) کا جو نقصان ہوا وہ الگ اور ذہنی پریشانی لاحق ہوئی وہ الگ۔ ایزی جیٹ کے عملے کے اس سلوک پر میں کئی گھنٹے تک ایئرپورٹ پر بیٹھ کر روتی رہی۔“ دوسری طرف ایزی جیٹ کی طرف سے اس معاملے پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ”ہیریٹ کو اس کے لباس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس برے روئیے اور عملے کے ساتھ بدتمیزی کی وجہ سے اتارا گیا۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں